السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
797. -- باب: سجود الشكر
-- باب: سجدہ شکر کا بیان
حدیث نمبر: 3933
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ إِلَى أَنْ قَالَ: حَتَّى كَمُلَتْ لَنَا خَمْسُونَ لَيْلَةً مِنْ حِينِ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ كَلَامِنَا، فَلَمَّا صَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ صُبْحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً وَأَنَا عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا، فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عَلَى الْحَالِ الَّتِي ذَكَرَ اللهُ مِنَّا قَدْ ضَاقَتْ عَلَيَّ نَفْسِي وَضَاقَتْ عَلَيَّ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَى عَلَى جَبَلِ سَلْعٍ، يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ أَبْشِرْ قَالَ: فَخَرَرْتُ سَاجِدًا، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ الْفَرَجُ، وَآذَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللهِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَذَهَبَ النَّاسُ يُبَشِّرُونَنَا، وَذَهَبَ قِبَلَ صَاحِبِيَّ مُبَشِّرُونَ، وَرَكَضَ رَجُلٌ إِلَيَّ فَرِحًا، وَسَعَى سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ فَأَوْفَى عَلَى الْجَبَلِ، فَكَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ إِلَيَّ مِنَ الْفَرَسِ، فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي نَزَعْتُ ثَوْبِيَّ فَكَسَوْتُهُمَا إِيَّاهُ بِبُشْرَاهُ، وَاللهِ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ، وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَيْنِ فَلَبِسْتُهُمَا، فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ اللَّيْثِ.
عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ عبداللہ بن کعب، جو کعب رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو جانے کے بعد ان کے بیٹوں میں سے ان کا ہاتھ پکڑ کر چلانے والے تھے، فرماتے ہیں: میں نے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوہ تبوک میں پیچھے رہنے والا واقعہ سنا، وہ طویل حدیث بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا بائیکاٹ کروایا تھا، اس وقت سے اب تک پچاس دن پورے ہو گئے۔ پچاسویں رات کی صبح جب میں نے فجر کی نماز پڑھی اور میں اپنے کسی گھر کی چھت پر تھا اور ایسی حالت میں بیٹھا تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے ہمارے بارے میں ذکر کیا کہ ﴿اپنی جان بھی تنگ پڑگئی اور زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ ہوگئی تھی﴾ [سورة التوبة: 118] کہ میں نے ایک پکارنے والے کو سنا جو سلع پہاڑ پر چڑھ کر پکار رہا تھا کہ اے کعب بن مالک! تجھے خوش خبری ہو۔ میں وہیں سجدہ ریز ہو گیا اور میں سمجھ گیا کہ میرے لیے خلاصی آ چکی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھ کر ہماری توبہ کی قبولیت کا اعلان کر دیا تھا۔ لوگ ہمیں خوش خبریاں دینے لگے اور میرے دو ساتھیوں کی طرف بھی گئے، میرے پاس ایک شخص خوش خبری لے کر پہنچا۔ قبیلہ اسلم کا ایک شخص دوڑ کر پہاڑ پر پہنچا اور گھوڑے کی آواز سے بھی تیز آواز آ رہی تھی۔ جب وہ شخص جس کی بشارت کی آواز میں سن چکا تھا میرے پاس آیا تو میں نے اپنے کپڑے جو پہنے ہوئے تھے دونوں اتار کر اس خوش خبری سنانے والے کو پہنا دیے۔ اللہ کی قسم! اس دن میں ان دو کپڑوں کے علاوہ کسی چیز کا مالک نہ تھا، پھر میں نے عارضی طور پر کسی سے دو کپڑے لیے، انہیں پہن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور مکمل حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3933]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 4418»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3933 in Urdu