السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
797. -- باب: سجود الشكر
-- باب: سجدہ شکر کا بیان
حدیث نمبر: 3932
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَوْزَجَانِيُّ ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ زِيدَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ أَبُو جَعْفَرٍ الْقَمَّاطُ الْكُوفِيَّانِ قَالَا: ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُجِيبُوهُ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْفُلَ خَالِدٌ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ إِلَّا رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ مَعَ خَالِدٍ أَحَبَّ أَنْ يُعَقِّبَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلْيُعَقِّبْ مَعَهُ قَالَ الْبَرَاءُ فَكُنْتُ مِمَّنْ عَقَّبَ مَعَهُ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْقَوْمِ خَرَجُوا إِلَيْنَا فَصَلَّى بِنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَصَفَّنَا صَفًّا وَاحِدًا، ثُمَّ تَقَدَّمَ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ كِتَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَتْ هَمْدَانُ جَمِيعًا، فَكَتَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْلَامِهِمْ، فَلَمَّا قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ خَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ:" السَّلَامُ عَلَى هَمْدَانَ السَّلَامُ عَلَى هَمْدَانَ" ⦗٥١٧⦘ أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ صَدْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ، فَلَمْ يَسُقْهُ بِتَمَامِهِ، وَسُجُودُ الشُّكْرِ فِي تَمَامِ الْحَدِيثِ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِ.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اہل یمن کی طرف بھیجا کہ وہ انہیں اسلام کی دعوت دیں تو انہوں نے دعوت کو قبول نہ کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ ”خالد رضی اللہ عنہ کو واپس بھیج دیں اور ان کے ساتھ والوں کو بھی سوائے اس شخص کے جو خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو اور وہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ملنا پسند کرے تو اس کو ساتھ ملا لو۔“ براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل ہو گئے، جب ہم لوگوں کے قریب پہنچنے لگے تو وہ ہماری طرف نکل آئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی اور ہم نے ایک ہی صف بنائی۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان سے آگے نکلے اور ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھ کر سنایا۔ ہمدان تو سارے کے سارے اسلام لے آئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ان کے اسلام لانے کی (خوشخبری) لکھ بھیجی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پڑھا تو اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو گئے۔ پھر سجدے سے سر اٹھا کر فرمایا: «السَّلَامُ عَلَى هَمْدَانَ، السَّلَامُ عَلَى هَمْدَانَ» ”ہمدان پر سلام ہو، ہمدان پر سلام ہو۔“
(ب) اس حدیث کا ابتدائی حصہ امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ پوری روایت مذکور نہیں ہے اور سجدہ شکر تمام حدیث میں اپنی شرائط پر صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3932]
(ب) اس حدیث کا ابتدائی حصہ امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ پوری روایت مذکور نہیں ہے اور سجدہ شکر تمام حدیث میں اپنی شرائط پر صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3932]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3933
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ إِلَى أَنْ قَالَ: حَتَّى كَمُلَتْ لَنَا خَمْسُونَ لَيْلَةً مِنْ حِينِ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ كَلَامِنَا، فَلَمَّا صَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ صُبْحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً وَأَنَا عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا، فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عَلَى الْحَالِ الَّتِي ذَكَرَ اللهُ مِنَّا قَدْ ضَاقَتْ عَلَيَّ نَفْسِي وَضَاقَتْ عَلَيَّ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَى عَلَى جَبَلِ سَلْعٍ، يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ أَبْشِرْ قَالَ: فَخَرَرْتُ سَاجِدًا، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ الْفَرَجُ، وَآذَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللهِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَذَهَبَ النَّاسُ يُبَشِّرُونَنَا، وَذَهَبَ قِبَلَ صَاحِبِيَّ مُبَشِّرُونَ، وَرَكَضَ رَجُلٌ إِلَيَّ فَرِحًا، وَسَعَى سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ فَأَوْفَى عَلَى الْجَبَلِ، فَكَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ إِلَيَّ مِنَ الْفَرَسِ، فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي نَزَعْتُ ثَوْبِيَّ فَكَسَوْتُهُمَا إِيَّاهُ بِبُشْرَاهُ، وَاللهِ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ، وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَيْنِ فَلَبِسْتُهُمَا، فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ اللَّيْثِ.
عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ عبداللہ بن کعب، جو کعب رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو جانے کے بعد ان کے بیٹوں میں سے ان کا ہاتھ پکڑ کر چلانے والے تھے، فرماتے ہیں: میں نے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوہ تبوک میں پیچھے رہنے والا واقعہ سنا، وہ طویل حدیث بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا بائیکاٹ کروایا تھا، اس وقت سے اب تک پچاس دن پورے ہو گئے۔ پچاسویں رات کی صبح جب میں نے فجر کی نماز پڑھی اور میں اپنے کسی گھر کی چھت پر تھا اور ایسی حالت میں بیٹھا تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے ہمارے بارے میں ذکر کیا کہ ﴿اپنی جان بھی تنگ پڑگئی اور زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ ہوگئی تھی﴾ [سورة التوبة: 118] کہ میں نے ایک پکارنے والے کو سنا جو سلع پہاڑ پر چڑھ کر پکار رہا تھا کہ اے کعب بن مالک! تجھے خوش خبری ہو۔ میں وہیں سجدہ ریز ہو گیا اور میں سمجھ گیا کہ میرے لیے خلاصی آ چکی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھ کر ہماری توبہ کی قبولیت کا اعلان کر دیا تھا۔ لوگ ہمیں خوش خبریاں دینے لگے اور میرے دو ساتھیوں کی طرف بھی گئے، میرے پاس ایک شخص خوش خبری لے کر پہنچا۔ قبیلہ اسلم کا ایک شخص دوڑ کر پہاڑ پر پہنچا اور گھوڑے کی آواز سے بھی تیز آواز آ رہی تھی۔ جب وہ شخص جس کی بشارت کی آواز میں سن چکا تھا میرے پاس آیا تو میں نے اپنے کپڑے جو پہنے ہوئے تھے دونوں اتار کر اس خوش خبری سنانے والے کو پہنا دیے۔ اللہ کی قسم! اس دن میں ان دو کپڑوں کے علاوہ کسی چیز کا مالک نہ تھا، پھر میں نے عارضی طور پر کسی سے دو کپڑے لیے، انہیں پہن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور مکمل حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3933]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 4418»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3934
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ (ح) قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، قَالُوا كُلُّهُمْ: حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا آتَاهُ أَمْرٌ يَسُرُّهُ أَوْ سُرَّ بِهِ خَرَّ سَاجِدًا شُكْرًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی خوشخبری آتی یا آپ کو کوئی خوشی ملتی تو اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3934]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 2774»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3935
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، عَنِ ابْنِ عُثْمَانَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ نُرِيدُ الْمَدِينَةَ، فَلَمَّا كَانَ قَرِيبًا مِنْ عَزْوَرَ نَزَلَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللهَ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا، ذَكَرَهُ أَحْمَدُ ثَلَاثًا قَالَ:" إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي وَشَفَعْتُ لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ لِرَبِّي سَاجِدًا شُكْرًا، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا، ثُمَّ قُمْتُ فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي الثُّلُثَ الْآخَرَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ" قَالَ: أَبُو دَاوُدَ رَحِمَهُ اللهُ أَشْعَثُ بْنُ إِسْحَاقَ أَسْقَطَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حِينَ حَدَّثَنَا بِهِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، عَنْهُ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ.
عامر بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کو جا رہے تھے۔ جب آپ عزور مقام پر پہنچے تو سواری سے نیچے اترے اور اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر بارگاہِ الٰہی میں کچھ دیر دعا و مناجات کی۔ پھر سجدے میں گر پڑے اور کافی دیر تک سجدے میں رہے، پھر کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ کچھ دیر کے لیے اٹھائے۔ اس کے بعد پھر سجدہ ریز ہو گئے۔ احمد نے اس کو تین بار ذکر کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا ہے اور اپنی امت کے لیے سفارش کی ہے تو اللہ نے ایک تہائی امت کے حق میں سفارش قبول کی، میں پھر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گیا، جب میں نے سر اٹھایا اور اللہ سے اپنی امت کے لیے شفاعت کی درخواست کی تو اللہ نے پھر ایک تہائی امت دے دی۔ میں پھر اپنے رب کے حضور سجدے میں گر گیا۔ پھر میں کھڑا ہوا اور اپنے رب سے اپنی امت کی خاطر سوال کیا تو اللہ نے مجھے ایک تہائی اور عطا فرما دیا، میں اپنے رب کے حضور شکر کرتے ہوئے سجدے میں گر گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3935]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 2775»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3936
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَبِي وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَا: أنبأ اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا مِنَ الْمَسْجِدِ فَاتَّبَعْتُهُ أَمْشِي وَرَاءَهُ وَلَا يَشْعُرُ بِي حَتَّى دَخَلَ نَخْلًا، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ وَأَنَا وَرَاءَهُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ اللهَ تَعَالَى تَوَفَّاهُ فَأَقْبَلْتُ أَمْشِي حَتَّى جِئْتُهُ فَطَأْطَأْتُ رَأْسِي أَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ؟" فَقُلْتُ: لَمَّا أَطَلْتَ السُّجُودَ يَا رَسُولَ اللهِ، خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللهُ قَدْ تَوَفَّى نَفْسَكَ، فَجِئْتُ أَنْظُرُ فَقَالَ:" إِنِّي لَمَّا رَأَيْتَنِي دَخَلْتُ النَّخْلَ لَقِيتُ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: أُبَشِّرُكَ أَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: مَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ".
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے باہر نکل رہے ہیں تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا پتا نہ چلا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے باغ میں داخل ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر سجدہ کیا اور بہت لمبا سجدہ کیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا تھا، حتیٰ کہ میں نے سمجھا شاید اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض کر لی ہو۔ میں چلتا ہوا آپ کے پاس آ گیا، میں نے اپنے سر کو جھکایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”اے عبد الرحمن! تمہیں کیا ہوا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے جب سجدے کو لمبا کیا تو مجھے خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت نہ کر دیا ہو تو میں دیکھنے آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نے مجھے باغ میں داخل ہوتے دیکھا اس وقت میں جبرائیل علیہ السلام سے ملا، انہوں نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشخبری سناتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجتا ہے میں اس پر سلامتی بھیجتا ہوں اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتا ہے میں اس پر رحمت بھیجتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3936]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3937
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنِّي لَقِيتُ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَبَشَّرَنِي وَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَقُولُ لَكَ: مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَسَجَدَتُ لِلَّهِ شُكْرًا" ⦗٥١٩⦘ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَأَبِي جُحَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيمَا ذَكَرْنَا كِفَايَةٌ عَنْ رِوَايَةِ الضُّعَفَاءِ.
عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جبرائیل علیہ السلام سے ملا، انہوں نے مجھے بشارت دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ کا پروردگار فرماتا ہے: جو آپ پر درود بھیجتا ہے، میں اس پر رحمت نازل کرتا ہوں اور جو آپ پر سلام بھیجتا ہے، میں اس پر سلامتی بھیجتا ہوں“، تو میں نے اللہ کے حضور سجدہ شکر ادا کیا۔
(ب) اس مسئلہ میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات نقل کرتے ہیں، لیکن ہم نے جو ذکر کر دی ہیں وہ ضعیف روایات کو ذکر کرنے سے کافی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3937]
(ب) اس مسئلہ میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات نقل کرتے ہیں، لیکن ہم نے جو ذکر کر دی ہیں وہ ضعیف روایات کو ذکر کرنے سے کافی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3937]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم 1/735»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3938
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا نَغَاشِيًّا يُقَالُ لَهُ زَنِيمٌ قَصِيرٌ فَخَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا، ثُمَّ قَالَ:" أَسْأَلُ اللهَ الْعَافِيَةَ" وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرِوَايَةُ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ وَلَكِنْ لَهُ شَاهِدٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
محمد بن علی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹے قد والا آدمی دیکھا، جسے چھوٹا سا کان کٹا کہا جاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حضور سجدے میں گر گئے، پھر فرمایا: ”میں اللہ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔“
یہ روایت منقطع ہے اور جابر جعفی کی روایت ہے، لیکن دوسری سند سے اس کا شاہد موجود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3938]
یہ روایت منقطع ہے اور جابر جعفی کی روایت ہے، لیکن دوسری سند سے اس کا شاہد موجود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3938]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ مابر العجمي»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 3939
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَبْصَرَ رَجُلًا بِهِ زِمَانَةٌ فَسَجَدَ".
(ا) عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو اپاہج تھا (یا دائمی مریض تھا) تو آپ سجدے میں گر گئے۔
(ب) محمد بن عبید اللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جب فتح کی خوشخبری آتی تو سجدہ کرتے، عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آتی تو وہ بھی سجدہ کرتے یا کسی اپاہج یا معذور کو دیکھتے تو سجدہ کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3939]
(ب) محمد بن عبید اللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جب فتح کی خوشخبری آتی تو سجدہ کرتے، عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آتی تو وہ بھی سجدہ کرتے یا کسی اپاہج یا معذور کو دیکھتے تو سجدہ کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3939]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3940
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ رَجُلٍ،" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا أَتَاهُ فَتْحُ الْيَمَامَةِ سَجَدَ".
ایک شخص سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس یمامہ کی فتح کی خوشخبری آئی تو انہوں نے سجدہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3940]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3941
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: أَبُو مُوسَى يَعْنِي مَالِكَ بْنَ الْحَارِثِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ فَقَالَ:" اطْلُبُوهُ، يَعْنِي الْمُخَدَّجَ، فَلَمْ يَجِدُوهُ فَجَعَلَ يَعْرَقُ جَبِينُهُ وَيَقُولُ: وَاللهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ فَاسْتَخْرَجُوهُ مِنْ سَاقَيْهِ فَسَجَدَ".
مالک بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں علی رضی اللہ عنہ کا ساتھی تھا، انہوں نے فرمایا: مخدج کو تلاش کرو۔ لوگوں نے اس کو کہیں نہ پایا تو (علی رضی اللہ عنہ کی) پیشانی سے پسینہ بہنے لگا اور وہ کہہ رہے تھے: اللہ کی قسم! نہ میں نے جھوٹ بولا اور نہ میں جھٹلایا گیا، تو انہوں نے اس کو اس کی پنڈلیوں سے پکڑ کر نکالا، آپ رضی اللہ عنہ نے سجدہ شکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3941]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف