السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
797. -- باب: سجود الشكر
-- باب: سجدہ شکر کا بیان
حدیث نمبر: 3936
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَبِي وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَا: أنبأ اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا مِنَ الْمَسْجِدِ فَاتَّبَعْتُهُ أَمْشِي وَرَاءَهُ وَلَا يَشْعُرُ بِي حَتَّى دَخَلَ نَخْلًا، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ وَأَنَا وَرَاءَهُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ اللهَ تَعَالَى تَوَفَّاهُ فَأَقْبَلْتُ أَمْشِي حَتَّى جِئْتُهُ فَطَأْطَأْتُ رَأْسِي أَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ؟" فَقُلْتُ: لَمَّا أَطَلْتَ السُّجُودَ يَا رَسُولَ اللهِ، خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللهُ قَدْ تَوَفَّى نَفْسَكَ، فَجِئْتُ أَنْظُرُ فَقَالَ:" إِنِّي لَمَّا رَأَيْتَنِي دَخَلْتُ النَّخْلَ لَقِيتُ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: أُبَشِّرُكَ أَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: مَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ".
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے باہر نکل رہے ہیں تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا پتا نہ چلا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے باغ میں داخل ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر سجدہ کیا اور بہت لمبا سجدہ کیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا تھا، حتیٰ کہ میں نے سمجھا شاید اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض کر لی ہو۔ میں چلتا ہوا آپ کے پاس آ گیا، میں نے اپنے سر کو جھکایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”اے عبد الرحمن! تمہیں کیا ہوا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے جب سجدے کو لمبا کیا تو مجھے خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت نہ کر دیا ہو تو میں دیکھنے آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نے مجھے باغ میں داخل ہوتے دیکھا اس وقت میں جبرائیل علیہ السلام سے ملا، انہوں نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشخبری سناتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجتا ہے میں اس پر سلامتی بھیجتا ہوں اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتا ہے میں اس پر رحمت بھیجتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3936]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3936 in Urdu