السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
806. -- باب: وجوب القراءة على ما نزل من الأحرف السبعة دون غيرهن من اللغات
-- باب: دیگر لغات کے بجائے ان سات حروف (قراءات) پر قراءت کے واجب ہونے کا بیان جن پر قرآن نازل ہوا ہے
حدیث نمبر: 3992
أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَازِرِيُّ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَوْلُهُ سَبْعَةُ أَحْرُفٍ، يَعْنِي سَبْعَ لُغَاتٍ مِنْ لُغَاتِ الْعَرَبِ، وَلَيْسَ مَعْنَاهُ أَنْ يَكُونَ فِي الْحَرْفِ الْوَاحِدِ سَبْعُ أَوْجُهٍ هَذَا مَا لَمْ يُسْمَعْ بِهِ قَطُّ وَلَكِنْ يَقُولُ: هَذِهِ اللُّغَاتُ السَّبْعُ مُتَفَرِّقَةٌ فِي الْقُرْآنِ فَبَعْضُهُ نَزَلَ بِلُغَةِ قُرَيْشٍ وَبَعْضُهُ بِلُغَةِ هَوَازِنَ وَبَعْضُهُ بِلُغَةِ هُذَيْلَ وَبَعْضُهُ بِلُغَةِ أَهْلِ الْيَمَنِ، وَكَذَلِكَ سَائِرُ اللُّغَاتِ، وَمَعَانِيهَا فِي هَذَا كُلِّهِ وَاحِدٌ" وَمِمَّا يُبَيِّنُ لَكَ ذَلِكَ قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ فَذَكَرَهُ قَالَ: وَكَذَلِكَ قَالَ ابْنُ سِيرِينَ وَإِنَّمَا هُوَ كَقَوْلِكَ: هَلُمَّ وتَعَالَ وَأَقْبِلْ، ثُمَّ فَسَّرَهُ ابْنُ سِيرِينَ، فَقَالَ: فِي قِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ:" إِنْ كَانَتِ إِلَّا زَقْيَةً وَاحِدَةً" وَفِي قِرَاءَتِنَا {صَيْحَةً وَاحِدَةً} [يس: ٢٩] ، وَالْمَعْنَى فِيهِمَا وَاحِدٌ وَعَلَى هَذَا سَائِرُ اللُّغَاتِ".
(ا) ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”سات حروف“ سے عرب کی سات لغتیں مراد ہیں، اس کا یہ معنیٰ نہیں ہے کہ ایک ہی حرف میں سات اعراب جائز ہیں۔ اس قسم کا قول تو کسی سے کبھی بھی نہیں سنا گیا۔ لیکن وہ فرماتے ہیں کہ یہ سات لغتیں قرآن میں متفرق ہیں۔ قرآن کا بعض حصہ قریش کی لغت میں نازل ہوا، بعض ہوازن کی لغت پر، کچھ ہذیل کی لغت پر اور کچھ اہل یمن کی لغت پر نازل ہوا۔ اسی طرح دیگر لغات ہیں۔ ان کے معانی ایک ہی ہیں۔ اس کی وضاحت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مذکورہ بالا قول سے ہوئی ہے۔
(ب) اسی طرح ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تو تمہارے اس قول کی طرح ہے: «هَلُمَّ وَتَعَالَ وَأَقْبِلْ» ”ادھر آ، آ جا اور متوجہ ہو“۔ پھر ابن سیرین رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر بیان کی کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں ہے: «إِنْ کَانَتْ إِلَّا زَقْيَةً وَاحِدَةً» ”نہیں تھی وہ مگر ایک ہی چنگھاڑ“ اور ہماری قرأت میں ﴿صَيْحَةً وَاحِدَةً﴾ [سورة يس: 29] ہے اور ان دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، اسی طرح دیگر لغات ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3992]
(ب) اسی طرح ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تو تمہارے اس قول کی طرح ہے: «هَلُمَّ وَتَعَالَ وَأَقْبِلْ» ”ادھر آ، آ جا اور متوجہ ہو“۔ پھر ابن سیرین رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر بیان کی کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں ہے: «إِنْ کَانَتْ إِلَّا زَقْيَةً وَاحِدَةً» ”نہیں تھی وہ مگر ایک ہی چنگھاڑ“ اور ہماری قرأت میں ﴿صَيْحَةً وَاحِدَةً﴾ [سورة يس: 29] ہے اور ان دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، اسی طرح دیگر لغات ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3992]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3992 in Urdu