🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

806. -- باب: وجوب القراءة على ما نزل من الأحرف السبعة دون غيرهن من اللغات
-- باب: دیگر لغات کے بجائے ان سات حروف (قراءات) پر قراءت کے واجب ہونے کا بیان جن پر قرآن نازل ہوا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3986
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: مَرَرْتُ بِهِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَمَعْتُ قِرَاءَتَهُ، فَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكِدْتُ أَنْ أُسَاوِرَهُ فِي الصَّلَاةِ فَانْتَظَرْتُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ لَبَبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي أَسْمَعُكَ تَقْرَؤُهَا؟ قَالَ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: كَذَبْتَ وَاللهِ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي تَقْرَؤُهَا فَانْطَلَقْتُ أَقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا، وَأَنْتَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْسِلْهُ يَا عُمَرُ، اقْرَأْهَا يَا هِشَامُ" فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ" ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ ⦗٥٣٦⦘ يَا عُمَرُ" فَقَرَأْتُ الْقِرَاءَةَ الَّتِي أَقْرَأَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ" ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزَلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مِنْهُ مَا تَيَسَّرَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عُقَيْلٍ وَيُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ایک بار میں ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا۔ وہ سورہ فرقان کی تلاوت کر رہے تھے، میں نے ان کی قرأت پر کان لگائے تو وہ بہت زیادہ ایسے حروف پڑھ رہے تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائے تھے، قریب تھا کہ میں جلدی سے انھیں روک دیتا۔ لیکن میں نے ان کے سلام پھیرنے کا انتظار کیا۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں انہی کی چادر ڈال کر کہا: تمہیں یہ سورت کس نے پڑھائی ہے جو میں نے تجھے ابھی پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ انھوں نے فرمایا: یہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے۔ میں نے کہا: تو جھوٹ بولتا ہے، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سورت مجھے بھی پڑھائی تھی جو تو پڑھ رہا تھا۔ میں ان کے گلے میں چادر ڈالے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! سورہ فرقان ایسے نہیں پڑھ رہا جیسے آپ نے مجھے پڑھائی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! اس کو چھوڑ دو۔“ پھر فرمایا: ”ہشام پڑھیے!“ انھوں نے ویسے ہی پڑھی جیسے میں نے ان سے سنی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے۔“ پھر مجھے فرمایا: ”پڑھیے۔“ میں نے اس طرح پڑھی جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھائی تھی۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اسی طرح نازل ہوئی۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قرآن سات لہجوں میں نازل ہوا ہے، اس میں سے جس طرح آسان ہو پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3986]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 4992»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3987
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارَابَجِرْدِيُّ، قَالَا: ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَا دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ قَرَأَ هَذَا قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ:" اقْرَأْ" فَقَرَأَ، ثُمَّ قَالَ: لِلْآخَرِ" اقْرَأْ" فَقَرَأَ، فَقَالَ:" أَحْسَنْتُمَا أَوْ أَصَبْتُمَا" فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَّنَ شَأْنَهُمَا سَقَطَ فِي نَفْسِي وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ: فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غَشِيَنِي ضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، فَفِضْتُ عَرَقًا وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اللهِ فَرَقًا، ثُمَّ قَالَ:" يَا أُبَيُّ بْنَ كَعْبٍ إِنَّ رَبِّي أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ" قَالَ:" فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ يَا رَبِّ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي فَرَدَّ عَلَيَّ الثَّانِيَةَ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ" قَالَ:" قُلْتُ: يَا رَبِّ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي، فَرَدَّ عَلَيَّ الثَّالِثَةَ أَنِ اقْرَأْ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رُدِدْتَهَا مَسْأَلَةٌ تَسْأَلَنِيهَا، فَقُلْتُ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي اللهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي، وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ إِلَى يَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ فِيهِ الْخَلْقُ حَتَّى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَسَقَطَ فِي نَفْسِي مِنَ التَّكْذِيبِ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَالَ غَيْرُهُ: سَقَطَ فِي نَفْسِي وَكَبُرَ عَلَيَّ، وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَا كَبُرَ عَلَيَّ.
سیدنا ابی بن کعب رضي الله عنه بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص داخل ہوا، اس نے قراءت کی تو میں نے اس کی قراءت کو اجنبی محسوس کیا، پھر ایک اور شخص آیا، اس نے اس کی قراءت سے بھی مختلف قراءت کی۔ جب ہم وہاں سے ہٹے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی نے ایسی قراءت کی ہے جس کا میں انکار کرتا ہوں اور اس دوسرے نے اپنے ساتھی کی قراءت سے بھی ہٹ کر قراءت کی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: ”پڑھو“، اس نے قراءت کی، پھر دوسرے کو فرمایا: ”پڑھو“، اس نے بھی پڑھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں نے صحیح پڑھا ہے“۔ جب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو اچھا کہا ہے تو میرے دل میں کئی وسوسے پیدا ہوئے۔ میں یہ تمنا کرنے لگا کہ کاش میں اس وقت جاہلیت میں ہوتا (اور اس کے بعد اسلام لاتا)۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری یہ حالت دیکھی تو اپنا ہاتھ مبارک میرے سینے پر مارا، میرا پسینہ چھوٹ گیا اور یہ کیفیت ہوگئی گویا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابی بن کعب! میرے رب نے میری طرف پیغام بھیجا ہے (وحی بھیجی) کہ قرآن کو ایک ہی لہجے پر پڑھوں، لیکن میں نے فرشتے کو واپس لوٹا دیا اور عرض کیا: اے میرے رب! میری امت پر آسانی فرما، تو اس نے دوسری بار بھی یہی بات دہرائی کہ ایک لہجے میں پڑھو۔ میں نے عرض کیا: اے میرے رب! میری امت پر آسانی فرما۔ تو تیسری بار مجھے جواب ملا کہ قرآن کو سات لہجوں میں پڑھو اور آپ کے لیے ہر بار واپس بھیجنے کے بدلے ایک دعا ہے، جو آپ نے مجھ سے کرنی ہے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ! میری امت کی مغفرت فرما، اے اللہ! میری امت کو بخش دے اور تیسری دعا کو میں نے قیامت کے دن تک مؤخر کر لیا ہے، جس دن سارے لوگ میری طرف آئیں گے یہاں تک کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی“۔
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ میرے دل میں تکذیب کا ایسا خیال آیا جو جاہلیت کے زمانے میں بھی نہ آیا تھا۔ ایک اور روایت میں ہے: «سُقِطَ فِي نَفْسِي وَكَبُرَ عَلَيَّ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَا كَبُرَ عَلَيَّ» ”میرے دل میں (شکوک و شبہات) پیدا ہوئے اور مجھ پر یہ بات اتنی گراں گزری کہ جاہلیت کے زمانے میں بھی ایسی بات مجھ پر گراں نہ گزری تھی“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3987]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 920»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3988
أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ مِنْ أَصْلِهِ أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ قَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْتَ وَأُمَّتَكَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْأَلُ اللهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ إِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ⦗٥٣٧⦘ ذَلِكَ" ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْتَ وَأُمَّتَكَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ هَذَا" ثُمَّ عَادَ، فَقَالَ: اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْتَ وَأُمَّتَكَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ قَالَ:" أَسْأَلُ اللهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ، إِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ" ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْتَ وَأُمَّتَكَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، أِيُّ حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثَ غُنْدَرٍ وَمُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ سے فرماتا ہے کہ آپ کی امت قرآن کو ایک لہجہ پر پڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ سے بخشش اور مغفرت چاہتا ہوں، کیونکہ میری امت میں اتنی طاقت نہیں۔“ وہ پھر لوٹ کر آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو حکم دیتا ہے کہ قرآن کو دو لہجوں میں پڑھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔“ جبرائیل علیہ السلام پھر لوٹ کر آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو فرماتا ہے کہ قرآن کو تین حروف پر پڑھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ سے عافیت اور مغفرت طلب کرتا ہوں کیونکہ میری امت میں اتنی طاقت نہیں ہے۔“ پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی امت کو فرماتا ہے کہ قرآن کو سات لہجوں پر پڑھو، جس بھی لہجے پر پڑھیں گے درستگی کو پائیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3988]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 821»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3989
وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ قَالَ: ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمُرَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَرَأْتُ آيَةً وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ قِرَاءَةً خِلَافَهَا فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَلَمْ تُقْرِأْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ:" بَلَى" قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَلَمْ تُقْرِأْنِيهَا كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ:" بَلَى" قَالَ:" كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ مُجْمِلٌ" قُلْتُ: مَا كِلَانَا أَحْسَنَ وَلَا أَجْمَلَ قَالَ: فَضَرَبَ فِي صَدْرِي وَقَالَ:" يَا أُبَيُّ أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ فَقِيلَ لِي عَلَى حَرْفٍ أَمَ عَلَى حَرْفَيْنِ؟ فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقُلْتُ: عَلَى حَرْفَيْنِ فَقِيلَ لِي عَلَى حَرْفَيْنِ أَمْ ثَلَاثَةٍ؟ فَقَالَ لِيَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي عَلَى ثَلَاثَةٍ، فَقُلْتُ: ثَلَاثَةٌ، حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ قَالَ: لَيْسَ فِيهَا إِلَّا شَافٍ كَافٍ، قُلْتُ: غَفُورٌ رَحِيمٌ عَلَيْمٌ حَلِيمٌ سَمِيعٌ عَلِيمٌ عَزِيزٌ حَكِيمٌ نَحْوُ هَذَا مَا لَمْ يَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ أَوْ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ" وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ فَأَرْسَلَهُ.
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ایک آیت پڑھی اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے اس کے مخالف قرأت میں پڑھی، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کیا: کیا آپ نے مجھے فلاں آیت اس طرح نہیں پڑھائی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں!“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کہنے لگے: کیا آپ نے فلاں آیت مجھے اس طرح نہیں پڑھائی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں!“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک اچھا اور بہترین پڑھ رہا ہے۔“ میں نے کہا: ہم دونوں کیسے؟
راوی فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور فرمایا: ”اے ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا، پھر مجھ سے پوچھا گیا: ایک لہجہ پر یا دو لہجوں پر؟ میرے پاس جو فرشتہ تھا اس نے کہا: دو حرفوں پر، میں نے کہا: دو حرفوں پر، پھر پوچھا گیا دو حرفوں پر یا تین حرفوں پر؟ میرے ساتھ والے فرشتے نے مجھے کہا: تین کا کہیں! میں نے کہا: تین حرفوں پر حتیٰ کہ وہ سات لہجوں تک پہنچا، پھر اس نے کہا: اس میں ہر ایک لہجہ «شَافٍ كَافٍ» ”شافی اور کافی“ ہے۔ میں نے کہا: «غَفُورٌ رَحِيمٌ» ”غفور رحیم“، «عَلِيمٌ حَلِيمٌ» ”علیم حلیم“، «سَمِيعٌ عَلِيمٌ» ”سمیع علیم“، «عَزِيزٌ حَكِيمٌ» ”عزیز حکیم“ اور اس کی طرح دیگر (کہہ دیا تو کچھ فرق نہیں پڑتا) البتہ آیتِ عذاب کو آیتِ رحمت سے یا آیتِ رحمت کو آیتِ عذاب سے بدلنا درست نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3989]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وشهدله ما قبله…»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3990
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَقْرَأَنِي جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ وَيَزِيدُنِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ" قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَإِنَّمَا هَذِهِ الْأَحْرُفُ فِي الْأَمْرِ الْوَاحِدِ لَيْسَ يُخْتَلَفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ وَعُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
(ا) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جبرئیل علیہ السلام نے ایک لہجہ میں قرآن پڑھایا تو میں بار بار انہیں لوٹاتا رہا اور انہیں اور زیادہ کروانے کا کہتا رہا حتیٰ کہ وہ سات تک پہنچ گئے۔“
(ب) زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ سات لہجے ہیں، ان کا حکم ایک ہی ہے اور حلال و حرام کا کوئی اختلاف نہیں، یعنی ایسا نہیں ہے کہ ایک لہجہ حلال ہو اور دوسرا حرام۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3990]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 4991»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3991
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ ⦗٥٣٨⦘ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يُوسُفُ الْقَاضِي، وَأَبُو مُسْلِمٍ قَالَا: ثنا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ:" سَمِعْتُ الْقِرَاءَةَ فَوَجَدْنَاهُمْ مُتَقَارِبَيْنِ، اقْرَءُوا مَا عَلِمْتُمْ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَطُّعَ وَالِاخْتِلَافَ، فَإِنَّمَا هُوَ كَقَوْلِ أَحَدِهِمْ هَلُمَّ وَتَعَالَ وَأَقْبِلْ" لَفْظُ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ، وَقَالَ: فَاقْرَءُوا كَمَا عَلِمْتُمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: وَأَقْبِلْ.
(ا) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے قرأت سنی تو انہیں قریب قریب پایا، لہٰذا جو تمہیں سمجھ آئے وہ پڑھو، غلو و تکلف اور اختلاف سے بچو۔ پھر تم میں سے کسی کا قول اس قول کی طرح ہے: «هَلُمَّ»، «تَعَالَ»، «أَقْبِلْ» ۔“
(ب) ایک دوسری روایت میں «أَقْبِلْ» کے الفاظ نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3991]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وله شاهد مرفوع من حديث ابي بكره كما في التهميد لا بن عبد البد 1399»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3992
أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَازِرِيُّ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَوْلُهُ سَبْعَةُ أَحْرُفٍ، يَعْنِي سَبْعَ لُغَاتٍ مِنْ لُغَاتِ الْعَرَبِ، وَلَيْسَ مَعْنَاهُ أَنْ يَكُونَ فِي الْحَرْفِ الْوَاحِدِ سَبْعُ أَوْجُهٍ هَذَا مَا لَمْ يُسْمَعْ بِهِ قَطُّ وَلَكِنْ يَقُولُ: هَذِهِ اللُّغَاتُ السَّبْعُ مُتَفَرِّقَةٌ فِي الْقُرْآنِ فَبَعْضُهُ نَزَلَ بِلُغَةِ قُرَيْشٍ وَبَعْضُهُ بِلُغَةِ هَوَازِنَ وَبَعْضُهُ بِلُغَةِ هُذَيْلَ وَبَعْضُهُ بِلُغَةِ أَهْلِ الْيَمَنِ، وَكَذَلِكَ سَائِرُ اللُّغَاتِ، وَمَعَانِيهَا فِي هَذَا كُلِّهِ وَاحِدٌ" وَمِمَّا يُبَيِّنُ لَكَ ذَلِكَ قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ فَذَكَرَهُ قَالَ: وَكَذَلِكَ قَالَ ابْنُ سِيرِينَ وَإِنَّمَا هُوَ كَقَوْلِكَ: هَلُمَّ وتَعَالَ وَأَقْبِلْ، ثُمَّ فَسَّرَهُ ابْنُ سِيرِينَ، فَقَالَ: فِي قِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ:" إِنْ كَانَتِ إِلَّا زَقْيَةً وَاحِدَةً" وَفِي قِرَاءَتِنَا {صَيْحَةً وَاحِدَةً} [يس: ٢٩] ، وَالْمَعْنَى فِيهِمَا وَاحِدٌ وَعَلَى هَذَا سَائِرُ اللُّغَاتِ".
(ا) ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”سات حروف“ سے عرب کی سات لغتیں مراد ہیں، اس کا یہ معنیٰ نہیں ہے کہ ایک ہی حرف میں سات اعراب جائز ہیں۔ اس قسم کا قول تو کسی سے کبھی بھی نہیں سنا گیا۔ لیکن وہ فرماتے ہیں کہ یہ سات لغتیں قرآن میں متفرق ہیں۔ قرآن کا بعض حصہ قریش کی لغت میں نازل ہوا، بعض ہوازن کی لغت پر، کچھ ہذیل کی لغت پر اور کچھ اہل یمن کی لغت پر نازل ہوا۔ اسی طرح دیگر لغات ہیں۔ ان کے معانی ایک ہی ہیں۔ اس کی وضاحت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مذکورہ بالا قول سے ہوئی ہے۔
(ب) اسی طرح ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تو تمہارے اس قول کی طرح ہے: «هَلُمَّ وَتَعَالَ وَأَقْبِلْ» ”ادھر آ، آ جا اور متوجہ ہو“۔ پھر ابن سیرین رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر بیان کی کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں ہے: «إِنْ کَانَتْ إِلَّا زَقْيَةً وَاحِدَةً» ”نہیں تھی وہ مگر ایک ہی چنگھاڑ“ اور ہماری قرأت میں ﴿صَيْحَةً وَاحِدَةً﴾ [سورة يس: 29] ہے اور ان دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، اسی طرح دیگر لغات ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3992]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3993
أنبأ أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فِي قِصَّةِ جَمْعِ الْقُرْآنِ حِينَ دَعَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَأَمَرَهُ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنْ يَنْسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، وَقَالَ:" مَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِيهِ فَاكْتُبُوهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ، فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ" فَكَتَبُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، فَاخْتَلَفُوا هُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي التَّابُوتِ، فَقَالَ الرَّهْطُ الْقُرَشِيُّونَ: التَّابُوتُ، وَقَالَ زَيْدٌ: التَّابُوهُ فَرَفَعُوا اخْتِلَافَهُمْ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: اكْتُبُوهُ التَّابُوتَ، فَإِنَّهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ" قَالَ إِسْمَاعِيلُ: هَكَذَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ بِقِصَّةِ التَّابُوتِ مَوْصُولًا فِي آخِرِ حَدِيثِهِ وَفَصَلَهُ أَبُو الْوَلِيدِ مِنَ الْحَدِيثِ فَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قرآن کے جمع کرنے کے واقعے میں منقول ہے: جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعید بن عاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ قرآن کی نقلیں تیار کریں اور فرمایا: جس چیز میں تمہارا اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا اختلاف ہو جائے تو اسے قریش کی لغت میں لکھو، کیونکہ قرآن انہی کی لغت میں نازل ہوا ہے، تو انہوں نے قرآن کو مصاحف میں لکھا۔ لوگوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے «التَّابُوتُ» میں اختلاف کیا، قریشیوں کے گروہ نے کہا: «التَّابُوتُ» اور زید رضی اللہ عنہ نے کہا: «التَّابُوهُ» ۔ وہ اپنا اختلاف لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا: «التَّابُوتُ» لکھو کیونکہ یہ (قرآن) قریش کی لغت میں نازل ہوا ہے۔
اسماعیل رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابراہیم بن حمزہ نے ہمیں تابوت کا قصہ اسی طرح حدیث کے آخر میں ملا کر بیان کیا ہے، جبکہ ابوالولید نے اسے حدیث سے الگ کر کے امام زہری رحمہ اللہ کا قول قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3993]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 3244۔ 460»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3994
أنبأ أَبُو سَهْلٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَاخْتَلَفُوا يَوْمَئِذٍ فِي التَّابُوتِ فقَالَ زَيْدٌ: التَّابُوه، وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ وَابْنُ الزُّبَيْرِ: التَّابُوتُ، فَرَفَعُوا اخْتِلَافَهُمْ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" اكْتُبُوهُ التَّابُوتُ فَإِنَّهُ بِلِسَانِهِمْ".
ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اس دوران «التَّابُوتُ» میں اختلاف کیا تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: «التَّابُوهُ» اور سیدنا سعید بن عاص اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: «التَّابُوتُ»، وہ اپنا فیصلہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر گئے تو انہوں نے فرمایا: ”اس کو «التَّابُوتُ» لکھو کیونکہ یہ (قرآن) انہیں (قریشیوں) کی لغت میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3994]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ سند المولف۔ رواه ابو يعنلي 1/64»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3995
أنبأ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ:" الْقِرَاءَةُ سُنَّةٌ" وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ اتِّبَاعَ مَنْ قَبْلَنَا فِي الْحُرُوفِ وَفِي الْقِرَاءَاتِ سُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ لَا يَجُوزُ مُخَالَفَةُ الْمُصْحَفِ الَّذِي هُوَ إِمَامٌ وَلَا مُخَالَفَةُ الْقِرَاءَاتِ الَّتِي هِيَ مَشْهُورَةٌ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ سَائِغًا فِي اللُّغَةِ أَوْ أَظْهَرَ مِنْهَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَأَمَّا الْأَخْبَارُ الَّتِي وَرَدَتْ فِي إِجَازَةِ قِرَاءَةِ: {غَفُورٌ رَحِيمٌ} [البقرة: ١٧٣] ، بَدَلَ {عَلِيمٌ حَكِيمٌ} [النساء: ٢٦] ؛ فَلَأَنَّ جَمِيعَ ذَلِكَ مِمَّا نَزَلَ بِهِ الْوَحْيُ، فَإِذَا قَرَأَ ذَلِكَ فِي غَيْرِ مَوْضِعِهِ مَا لَمْ يَخْتِمْ بِهِ آيَةَ عَذَابٍ بِآيَةِ رَحْمَةٍ أَوْ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ فَكَأَنَّهُ قَرَأَ آيَةً مِنْ سُورَةٍ وَآيَةً مِنْ سُورَةٍ أُخْرَى فَلَا يَأْثَمُ بِقِرَاءَتِهَا كَذَلِكَ، وَالْأَصْلُ مَا اسْتَقَرَّتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فِي السَّنَةِ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا عَارَضَهُ بِهِ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي تِلْكَ السَّنَةِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ اجْتَمَعَتِ الصَّحَابَةُ عَلَى إِثْبَاتِهِ بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ.
(ا) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قراءت سنت ہے۔
(ب) ان کی مراد اپنے سے پہلے والوں کی ہجوں میں اتباع کرنا ہے۔ قراءتوں میں جو لائقِ اتباع ہیں، ان میں اس مصحف کی مخالفت جائز نہیں جو امام ہے اور نہ ہی مشہور قراءتوں کی مخالفت جائز ہے، اگرچہ وہ اس کے علاوہ لغت میں جائز ہو یا زیادہ واضح ہی کیوں نہ ہو۔
(ج) رہی وہ احادیث جو «عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ» ”علیم حکیم“ کی جگہ «غَفُوْرٌ رَحِيْمٌ» ”غفور رحیم“ کی قراءت کی اجازت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں، وہ اس لیے کہ یہ بھی ان میں سے ہیں جن کے بارے میں وحی نازل ہوئی۔ لہٰذا اس کو اس کی جگہ کے علاوہ پڑھنا جائز ہے، آیتِ عذاب کو آیتِ رحمت سے یا آیتِ رحمت کو آیتِ عذاب سے نہ بدلے۔ یہ ایسا ہے گویا اس نے ایک آیت ایک سورت سے پڑھی اور دوسری آیت دوسری سورت سے، تو اس طرح پڑھنے سے وہ گناہ گار نہ ہوگا؛ اور اصل جس پر قراءت قائم ہے وہ وہی ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، جبرائیل امین علیہ السلام کے ساتھ دور کرنے کے بعد فوت ہوئے۔ اس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل امین علیہ السلام کے ساتھ دو مرتبہ دور کیا تھا۔ پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے (قرآن کے) دو گتوں کے درمیان ثابت ہونے پر اجماع کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3995]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه سعيد بن منصور 2/260»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں