السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. -- باب إزالة النجاسات بالماء دون سائر المائعات
-- دیگر بہنے والی اشیاء کے بجائے صرف پانی سے نجاستیں دور کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 40
مَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، نا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ:" إِذَا حَكَّ أَحَدُكُمْ جِلْدَهُ فَلَا يَمْسَحْهُ بِرِيقِهِ فَإِنْهُ لَيْسَ بِطَاهِرٍ". قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: امْسَحْهُ بِمَاءٍ، وَإِنَّمَا أَرَادَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ الرِّيقَ لَا يُطَهِّرُ الدَّمَ الْخَارِجَ مِنْهُ بِالْحَكِّ. ⦗٢٢⦘ وَأَمَّا حَدِيثُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" يَا عَمَّارُ، مَا نُخَامَتُكَ وَلَا دُمُوعُ عَيْنَيْكَ إِلَّا بِمَنْزِلَةِ الْمَاءِ الَّذِي فِي رِكْوَتِكَ. إِنَّمَا تَغْسِلُ ثَوْبَكَ مِنَ الْبَوْلِ، وَالْغَائِطِ، وَالْمَنِيِّ، وَالدَّمِ، وَالْقَيْءِ" فَهَذَا بَاطِلٌ لَا أَصْلَ لَهُ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ ثَابِتُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَمَّارٍ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَثَابِتُ بْنُ حَمَّادٍ مُتَّهَمٌ بِالْوَضْعِ.
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی جلد کو کھجائے تو اسے اپنے لعاب سے نہ پونچھے، کیونکہ وہ پاک نہیں ہے۔
(ب) راوی کہتا ہے کہ میں نے یہ بات ابراہیم رحمہ اللہ سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا: اسے پانی کے ساتھ دھو ڈال۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ لعاب کھجانے سے نکلنے والے خون کو پاک نہیں کرتا۔ واللہ اعلم۔
(ج) رہی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی حدیث کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے عمار! تیری بلغم اور آنسو اس پانی کی طرح ہیں جو تیرے ڈول میں ہو، تو اپنے کپڑے کو صرف بول و براز، منی، خون اور قے سے دھوئے گا۔“
یہ حدیث موضوع ہے، اس کی اصل کوئی نہیں۔ اس کی سند کچھ اس طرح ہے: ثابت بن حماد عن علی بن زید عن ابن المسیب عن عمار۔
علی بن زید قابلِ حجت نہیں اور ثابت بن حماد حدیث گھڑنے میں تہمت زدہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 40]
(ب) راوی کہتا ہے کہ میں نے یہ بات ابراہیم رحمہ اللہ سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا: اسے پانی کے ساتھ دھو ڈال۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ لعاب کھجانے سے نکلنے والے خون کو پاک نہیں کرتا۔ واللہ اعلم۔
(ج) رہی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی حدیث کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے عمار! تیری بلغم اور آنسو اس پانی کی طرح ہیں جو تیرے ڈول میں ہو، تو اپنے کپڑے کو صرف بول و براز، منی، خون اور قے سے دھوئے گا۔“
یہ حدیث موضوع ہے، اس کی اصل کوئی نہیں۔ اس کی سند کچھ اس طرح ہے: ثابت بن حماد عن علی بن زید عن ابن المسیب عن عمار۔
علی بن زید قابلِ حجت نہیں اور ثابت بن حماد حدیث گھڑنے میں تہمت زدہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 40]
تخریج الحدیث: «حسن أخرجه الخطيب في تاريخ بغداد 9/168»
الحكم على الحديث: حسن أخرجه الخطيب في تاريخ بغداد 9/168
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 40 in Urdu