🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
808. -- باب: ما روي في إتمام الفريضة من التطوع في الآخرة
-- باب: آخرت میں نفل نمازوں کے ذریعے فرض نمازوں کو پورا کیے جانے کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ ”جو شخص فرائض پورے نہیں کرتا، اس کمی کو نوافل (نمازوں) سے پورا کیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q4000]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4000
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ (ح) وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ، أَنَّهُ خَافَ مِنْ زِيَادٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي رِوَايَتِهِ: مِنْ زِيَادٍ أَوِ ابْنِ زِيَادٍ، فَأَتَى الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: فَنَسَبَنِي فَانْتَسَبْتُ لَهُ، فَقَالَ: يَا فَتَى أَلَّا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى يَرْحَمُكَ اللهُ قَالَ يُونُسُ وَأَحْسَبُهُ ذَكَرَهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ النَّاسُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَعْمَالِهِمُ الصَّلَاةُ قَالَ: يَقُولُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ: انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا؟، فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً، وَإِنْ كَانَتِ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا قَالَ: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ قَالَ: أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ، ثُمَّ تُأْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكُمْ".
انس بن حکیم ضبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں زیاد یا ابن زیاد سے خوفزدہ ہو کر مدینہ آیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا: مجھے اپنا نسب بیان کرو۔ میں نے نسب بیان کر دیا تو انہوں نے فرمایا: اے نوجوان! کیا میں تجھ سے ایک حدیث نہ بیان کروں؟ میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ (یونس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے روز لوگوں سے ان کے اعمال میں سے سب سے پہلے نماز کے متعلق پوچھا جائے گا۔ ہمارا پروردگار عزوجل فرشتوں سے فرمائے گا، حالانکہ وہ سب کچھ جانتا ہے: میرے اس بندے کی نماز کا جائزہ لو، کیا اس نے اسے درست اور مکمل پڑھا تھا یا اس میں کوئی کمی کی تھی؟ اگر وہ مکمل ہو گی تو مکمل ہی لکھی جائے گی۔ اگر اس میں کچھ کمی ہو گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دیکھو کیا میرے بندے کے پاس نفل بھی ہیں؟ اگر اس کے پاس نفل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے اس بندے کے فرائض کو اس کے نوافل سے پورا کر دو۔ پھر تمام اعمال کا حساب اسی اصول کے مطابق لیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4000]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابن الجاشيبة 34242»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4000 in Urdu