🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
807. -- باب: ما روي فيمن يسرق من صلاته فلا يتمها
-- باب: اس شخص کے متعلق جو مروی ہے جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے اور اسے پورا نہیں کرتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3999
وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو سَعِيدٍ وَصَفْوَانُ، قَالُوا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ دَخَلَ الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَيْمَنَ وَهُوَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَكَانَ أَيْمَنُ أَخًا لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ كَانَ أَكْبَرَ مِنْ أُسَامَةَ قَالَ حَرْمَلَةُ: فَصَلَّى الْحَجَّاجُ صَلَاةً لَمْ يُتِمَّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ فَدَعَاهُ ابْنُ عُمَرَ حِينَ سَلَّمَ، فَقَالَ: أَيِ ابْنَ أَخِي أَتَحْسِبُ أَنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ إِنَّكَ لَمْ تُصِلِّ فَعُدْ لِصَلَاتِكَ، فَلَمَّا وَلَّى الْحَجَّاجُ قَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَيْمَنَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" لَوْ رَأَى هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَحَبَّهُ، فَذَكَرَ حُبَّهُ مَا وَلَدَتْ أُمُّ أَيْمَنَ وَكَانَتْ حَاضِنَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حرملہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ حجاج بن ایمن بن ام ایمن داخل ہوا، جو انصار کا ایک شخص تھا اور ایمن، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا بڑا بھائی تھا۔ حرملہ بیان کرتے ہیں کہ حجاج نے ایسی نماز پڑھی جس میں اس نے رکوع و سجود کو مکمل نہیں کیا، جب اس نے سلام پھیرا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے بلا کر کہا: ”اے بھتیجے! تو کیا سمجھتا ہے کہ تو نے نماز پڑھ لی ہے؟ تیری نماز نہیں ہوئی، اپنی نماز لوٹا۔“ جب حجاج چلا گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا: ”یہ کون تھا؟“ میں نے کہا: حجاج بن ایمن بن ام ایمن۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بولے: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھ لیتے تو اس سے محبت کرتے“، پھر انہوں نے محبت کی وجہ ذکر کی کہ وہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے تھا اور ام ایمن رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش و نگہداشت کرنے والی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3999]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 3529»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3999 in Urdu