السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. -- باب: الرخصة في البداءة باليسار
-- باب: بائیں جانب سے آغاز کرنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 406
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا مَرْوَانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ زِيَادٍ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْوُضُوءِ، فَقَالَ:" ابْدَأْ بِالْيَمِينِ أَوْ بِالشِّمَالِ". فَأَضْرَطَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِهِ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَبَدَأَ بِالشِّمَالِ قَبْلَ الْيَمِينِ".
(الف) بنی مخزوم کے غلام زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وضو کے متعلق سوال کیا اور کہا: میں دائیں طرف سے شروع کروں یا بائیں طرف سے؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (اس کے سوال کو حقیر جانتے ہوئے) منہ سے آواز نکال کر اس کا مذاق اڑایا، پھر پانی منگوایا اور دائیں کے بجائے بائیں سے شروع کیا۔
(ب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اس کی پروا نہیں کرتا، اگر میں دائیں سے پہلے بائیں سے شروع کروں۔
(ج) سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں پروا نہیں کرتا جب میں مکمل وضو کروں جس عضو سے بھی میں شروع کروں۔
(د) یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد حفص بن غیاث کی حدیث ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 406]
(ب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اس کی پروا نہیں کرتا، اگر میں دائیں سے پہلے بائیں سے شروع کروں۔
(ج) سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں پروا نہیں کرتا جب میں مکمل وضو کروں جس عضو سے بھی میں شروع کروں۔
(د) یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد حفص بن غیاث کی حدیث ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 406]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه الدارقطني 1/88»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 406 in Urdu