السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
856. -- باب: من قال بطهور الأرض إذا يبست
-- باب: اس قول کا بیان جس نے زمین کے خشک ہو جانے پر اس کے پاک ہونے کا کہا ہے
حدیث نمبر: 4244
وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ بِأَعْلَى صَوْتِهِ" اجْتَنِبُوا اللَّغْوَ فِي الْمَسْجِدِ" قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" وَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ فَتًى شَابًّا عَزَبًا، وَكَانَتِ الْكِلَابُ تَبُولُ، وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ: حَدَّثَنِي أَبِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ الْمُسْنَدَ مُخْتَصَرًا، وَقَالَ فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ" وَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ" وَلَيْسَ فِي بَعْضِ النُّسَخِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْبُخَارِيِّ كَلِمَةُ الْبَوْلِ، أَنْبَأَ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ فِي مَعْنَى الْخَبَرِ: إِنَّ الْمَسْجِدَ لَمْ يَكُنْ يُغْلَقُ عَلَيْهَا، وَكَانَتْ تَتَرَدَّدُ فِيهِ الْكِلَابُ وَعَسَاهَا كَانَتْ تَبُولُ إِلَّا أَنَّ عِلْمَ بَوْلِهَا فِيهِ لَمْ يَكُنْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ وَلَا عِنْدَ الرَّاوِي أِيُّ مَوْضِعٍ هُوَ، وَمِنْ حَيْثُ أَمَرَ فِي بَوْلِ الْأَعْرَابِيِّ بِمَا أَمَرَ دَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ بَوْلَ مَا سِوَاهُ فِي حُكْمِ النَّجَاسَةِ وَاحِدٌ، وَإِنِ اخْتَلَفَ غِلَظُ نَجَاسَتِهَا قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ مَيْمُونَةَ فِي قِصَّةِ جِرْوِ الْكَلْبِ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ" وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي غَسْلِ الْإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِهِ بِعَدَدٍ، وَإِرَاقَةِ الْمَاءِ الَّذِي وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ، وَفِي كُلِّ ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى نَجَاسَتِهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بلند آواز سے مسجد میں فرمایا کرتے تھے: مسجد میں لغو باتوں سے پرہیز کرو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسجد میں رات گزارتا تھا اور میں کنوارا نوجوان تھا، کتے مسجد میں آتے جاتے اور پیشاب کرتے تھے، لیکن لوگ چھینٹے بھی نہیں مارتے تھے۔
(ب) ابوبکر اسماعیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسجد ان دنوں بند نہیں ہوتی تھی، ممکن ہے وہ پیشاب کر جاتے ہوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور راوی کو اس جگہ کا علم نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی کے پیشاب کے بارے میں جو حکم دیا ہے وہ بھی اسی نجاست کے حکم میں ہے۔
(ج) میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کتے کے بچے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، اس کو نکالا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی لے کر اس جگہ پر چھڑک دیا۔
(د) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کتے کے برتن میں منہ ڈالنے کی وجہ سے اس کو کئی مرتبہ دھونے کا حکم دیا گیا ہے اور اس پانی کو بہا دینے کا حکم دیا ہے۔ یہ تمام چیزیں اس کے نجس ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4244]
(ب) ابوبکر اسماعیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسجد ان دنوں بند نہیں ہوتی تھی، ممکن ہے وہ پیشاب کر جاتے ہوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور راوی کو اس جگہ کا علم نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی کے پیشاب کے بارے میں جو حکم دیا ہے وہ بھی اسی نجاست کے حکم میں ہے۔
(ج) میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کتے کے بچے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، اس کو نکالا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی لے کر اس جگہ پر چھڑک دیا۔
(د) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کتے کے برتن میں منہ ڈالنے کی وجہ سے اس کو کئی مرتبہ دھونے کا حکم دیا گیا ہے اور اس پانی کو بہا دینے کا حکم دیا ہے۔ یہ تمام چیزیں اس کے نجس ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4244]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4244 in Urdu