السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
856. -- باب: من قال بطهور الأرض إذا يبست
-- باب: اس قول کا بیان جس نے زمین کے خشک ہو جانے پر اس کے پاک ہونے کا کہا ہے
حدیث نمبر: 4245
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا، فَقَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ: أَيْ رَسُولَ اللهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ فَقَالَ:" إِنَّ جَبْرَائِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي، أَمَا وَاللهِ مَا أَخْلَفَنِي" قَالَتْ: فَظَلَّ يَوْمَهُ كَذَلِكَ، ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ نَضَدٍ لَنَا فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ، فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ" قَالَ:" أَجَلْ وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ" قَالَ: فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ، وَبِتَرْكِ كَلْبِ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ" قَدْ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ وَفِيهِ إِثْبَاتُ نَضْحِ مَكَانِ الْكَلْبِ بِالْمَاءِ، وَفِيهِ وَفِيمَا مَضَى مِنْ كِتَابِ الطَّهَارَةِ فِي غَسْلِ الْإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِهِ، وَإِرَاقَةِ الْمَاءِ الَّذِي وَلَغَ فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى نَجَاسَتِهِ، وَعَلَى نَسْخِ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْكَلْبِ إِنْ كَانَ يُخَالِفُهُ مَعَ أَنَّهُ يَحْتَمِلُ مَا ذَكَرَهُ الْإِسْمَاعِيلِيُّ وَغَيْرُهُ، فَلَا يَكُونُ مُخَالِفًا لَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غم کی حالت میں صبح کی۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آج میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عجیب حالت دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے گزشتہ رات ملنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ملے نہیں تھے، حالانکہ انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا دن ویسے ہی رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن میں کتے کے بچے کا خیال آیا، جو ہمارے سامان کے نیچے تھا۔ اس کو نکالا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی لے کر اس جگہ پر چھینٹے مارے تو شام کے وقت جبرائیل علیہ السلام بھی مل گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ نے تو گزشتہ رات ملنے کا وعدہ کیا تھا؟“ جبرائیل علیہ السلام کہنے لگے: ”جی ہاں! لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو۔“ صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے قتل کا حکم دے دیا، لیکن بڑے باغ کی رکھوالی والے کتے کو چھوڑ دیا اور چھوٹے باغ کی رکھوالی والے کتے کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4245]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2105»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4245 in Urdu