السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
874. -- باب: المشرك يدخل المسجد غير المسجد الحرام
-- باب: مشرک کا مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں داخل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4335
أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْزَلَهُمْ فِي قُبَّةٍ فِي الْمَسْجِدِ؛ لِيَكُونَ أَرَقَّ لِقُلُوبِهِمْ ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي اشْتِرَاطِهِمْ حِينَ أَسْلَمُوا وَرَوَاهُ أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا بِبَعْضِ مَعْنَاهُ، زَادَ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنْزَلْتَهُمْ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمْ مُشْرِكُونَ؟ فَقَالَ:" إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَنْجَسُ إِنَّمَا يَنْجَسُ ابْنُ آدَمَ".
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ثقیف کو مسجد کے ایک خیمے میں ٹھہرایا تاکہ یہ چیز ان کے دلوں کو زیادہ نرم کر دے۔ پھر انہوں نے شرائط والی حدیث ذکر کی جب وہ مسلمان ہوئے۔
(ب) اشعث نے حسن رحمہ اللہ سے یہ روایت مرسل طور پر کچھ معنی کے ساتھ بیان کی ہے اور یہ اضافہ کیا ہے کہ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد میں ٹھہرایا ہے حالانکہ وہ مشرک ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابنِ آدم نجس ہوتا ہے، زمین تو نجس نہیں ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4335]
(ب) اشعث نے حسن رحمہ اللہ سے یہ روایت مرسل طور پر کچھ معنی کے ساتھ بیان کی ہے اور یہ اضافہ کیا ہے کہ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد میں ٹھہرایا ہے حالانکہ وہ مشرک ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابنِ آدم نجس ہوتا ہے، زمین تو نجس نہیں ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4335]
تخریج الحدیث: «تقدم»
الحكم على الحديث: تقدم
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4335 in Urdu