🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

874. -- باب: المشرك يدخل المسجد غير المسجد الحرام
-- باب: مشرک کا مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں داخل ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4330
لِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى {فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا} [التوبة: 28] وَهُوَ قَوْلُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ.
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا﴾ ”وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ جائیں۔“ [سورة التوبة: 28]
اور یہی سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: Q4330]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4330
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي إِسْلَامِهِ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا، وہ بنو حنیفہ کے ایک شخص کو پکڑ کر لے آئے، جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا، انہوں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4330]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1764»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4331
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أنبأ اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ، فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ ⦗٦٢٣⦘ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقُلْنَا لَهُ: هَذَا الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَجَبْتُكَ" فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي سَائِلُكَ قَالَ: وَسَاقَ الْحَدِيثَ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَرُوِيَ عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَهُ وَسَمَّى الرَّجُلَ ضَمَّامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ وَقَالَ عَنِ اللَّيْثِ:" فَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اونٹ پر ایک شخص داخل ہوا، اس نے اونٹ کو مسجد میں بٹھا کر اس کا گھٹنا باندھ دیا اور کہنے لگا: تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہے؟ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یہ ہیں سفید ٹیک لگائے ہوئے۔ وہ کہنے لگا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی، میں آپ کی بات سنتا ہوں۔“ اس نے کہا: میں آپ سے ایک سوال کرنے آیا ہوں
ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس شخص کا نام ضمام بن ثعلبہ ہے۔ لیث کہتے ہیں: اس نے اپنا اونٹ مسجد کے دروازے کے قریب بٹھایا اور اس کا گھٹنا باندھا، پھر مسجد میں داخل ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4331]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 63، ابن خزيمه 2358»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4332
وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ثنا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَنَحْنُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" الْيَهُودُ أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ فِي رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنْهُمْ زَنَيَا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! اس مرد و عورت کے بارے میں کیا حکم ہے جنہوں نے زنا کیا ہو؟۔۔۔ الخ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4332]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ عبدالرزاق 13330»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4333
أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ إِخْوَانِي، عَنْ أَبِي، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ:" أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فِي فِدَاءِ بَدْرٍ" قَالَ: وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ قَالَ:" فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الْمَغْرِبِ يَقْرَأُ فِيهَا بِالطُّورِ، فَكَأَنَّمَا صُدِعَ قَلْبِي لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ".
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بدر کے قیدیوں کے فدیے کے سلسلے میں مدینہ آیا، میں اس وقت مشرک تھا۔ میں مسجد میں داخل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿سورة الطور﴾ پڑھی اور قرآن کی تلاوت سے گویا میرا دل پھٹا جا رہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4333]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4334
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَهُمُ الْمَسْجِدَ؛ لِيَكُونَ أَرَقَّ لِقُلُوبِهِمْ، فَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يُحْشَرُوا، وَلَا يُعْشَرُوا وَلَا يُجَبَّوْا وَلَا يُسْتَعْمَلُ عَلَيْهِمْ مِنْ غَيْرِهِمْ، فَقَالَ:" لَا تُحْشَرُوا وَلَا تُعْشَرُوا وَلَا تُجَبُّوا وَلَا يُسْتَعْمَلْ عَلَيْكُمْ مِنْ غَيْرِكُمْ، وَلَا خَيْرَ فِي دِينٍ لَيْسَ فِيهِ رُكُوعٌ".
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ثقیف کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسجد میں بٹھایا تاکہ یہ چیز ان کے دلوں کو زیادہ نرم کر دے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر شرطیں لگائیں کہ نہ ہی انہیں (جہاد کے لیے) اکٹھا کیا جائے گا، نہ ہی ان سے عشر لیا جائے گا، نہ ہی انہیں (نماز میں) جھکنا پڑے گا اور نہ ہی ان کی قوم کے علاوہ کوئی دوسرا ان پر عامل مقرر کیا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ تم کو (جہاد کے لیے) جمع کیا جائے، نہ عشر لیا جائے، نہ تمہیں جھکنے پر مجبور کیا جائے اور نہ ہی تم پر تمہارے غیر سے عامل مقرر کیا جائے، لیکن اس دین میں کوئی بھلائی نہیں جس میں رکوع نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4334]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4335
أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْزَلَهُمْ فِي قُبَّةٍ فِي الْمَسْجِدِ؛ لِيَكُونَ أَرَقَّ لِقُلُوبِهِمْ ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي اشْتِرَاطِهِمْ حِينَ أَسْلَمُوا وَرَوَاهُ أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا بِبَعْضِ مَعْنَاهُ، زَادَ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنْزَلْتَهُمْ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمْ مُشْرِكُونَ؟ فَقَالَ:" إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَنْجَسُ إِنَّمَا يَنْجَسُ ابْنُ آدَمَ".
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ثقیف کو مسجد کے ایک خیمے میں ٹھہرایا تاکہ یہ چیز ان کے دلوں کو زیادہ نرم کر دے۔ پھر انہوں نے شرائط والی حدیث ذکر کی جب وہ مسلمان ہوئے۔
(ب) اشعث نے حسن رحمہ اللہ سے یہ روایت مرسل طور پر کچھ معنی کے ساتھ بیان کی ہے اور یہ اضافہ کیا ہے کہ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد میں ٹھہرایا ہے حالانکہ وہ مشرک ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابنِ آدم نجس ہوتا ہے، زمین تو نجس نہیں ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4335]
تخریج الحدیث: «تقدم»

الحكم على الحديث: تقدم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں