السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
875. -- باب: المسلم يبيت في المسجد
-- باب: مسلمان کا مسجد میں رات گزارنے کا بیان
حدیث نمبر: 4337
حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ النَّضْرِيِّ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ مُهَاجِرًا وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَإِنْ كَانَ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ الصُّفَّةَ، فَقَدِمْتُهَا وَلَيْسَ لِي بِهَا عَرِيفٌ فَنَزَلَتِ الصُّفَّةَ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَافِقُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ وَيَقْسِمُ بَيْنَهُمَا مُدًّا مِنْ تَمْرٍ فَبَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحْرَقَ بُطُونَنَا التَّمْرُ، وَتَخَرَّقَتْ عَنَّا الْخُنُفُ قَالَ: وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَذَكَرَ مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ، ثُمَّ قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَصَاحِبِي مَكَثْنَا بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً مَا لَنَا طَعَامٌ غَيْرُ الْبَرِيرِ"، وَالْبَرِيرُ ثَمَرُ الْأَرَاكِ" حَتَّى أَتَيْنَا إِخْوَانَنَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَآسَوْنَا مِنْ طَعَامِهِمْ، وَكَانَ جُلُّ طَعَامِهِمُ التَّمْرَ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَوْ قَدَرْتُ لَكُمْ عَلَى الْخُبْزِ وَاللَّحْمِ لَأَطْعَمْتُكُمُوهُ، وَسَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ، أَوْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ تَلْبَسُونَ أَمْثَالَ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، وَيُغْدَى وَيُرَاحُ عَلَيْكُمْ بِالْجِفَانِ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ أَوِ الْيَوْمَ؟ قَالَ:" لَا بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ، أَنْتُمُ الْيَوْمَ إِخْوَانٌ، وَأَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
سیدنا طلحہ نصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ ہجرت کر کے گیا۔ جب بھی کوئی شخص مدینہ ہجرت کر کے آتا، اگر تو کوئی اس کا جاننے والا ہوتا تو وہ اس کے پاس ٹھہرتا اور اگر نہ ہوتا تو وہ اصحابِ صفہ کے ساتھ رہتا۔ میں آیا تو میری بھی کوئی جان پہچان نہیں تھی، چنانچہ میں اصحابِ صفہ کے ساتھ رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو دو آدمیوں کو باہم ساتھی بنا رہے تھے اور ان کے درمیان ایک مد کھجور تقسیم فرما رہے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے تو اچانک ایک شخص نے آواز دی: اے اللہ کے رسول! کھجوروں نے ہمارے پیٹوں کو جلا ڈالا اور ہماری اونی چادریں پھٹ گئیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد اس پریشانی کا تذکرہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم کی طرف سے پہنچی تھی، پھر فرمایا: ”میں اور میرا ساتھی دس راتوں سے زائد ٹھہرے رہے اور ہمارے پاس پیلو کے سوا کوئی کھانا نہیں تھا، یہاں تک کہ ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آئے۔ انہوں نے کھانے کے ذریعے ہماری مدد کی، ان کا زیادہ تر کھانا کھجور تھا۔ اس اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اگر میں روٹی اور گوشت کھلانے کی طاقت رکھتا تو تمہیں ضرور کھلاتا، عنقریب تمہارے اوپر وہ دور آئے گا یا تم میں سے جو اسے پا لے گا (وہ دیکھے گا کہ) تم کعبہ کے غلافوں کی مثل پہنو گے اور صبح و شام تمہارے پاس (کھانوں کے) بڑے بڑے پیالے لائے جائیں گے۔“ انہوں نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آج بہتر ہیں یا اس دن بہتر ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم آج بہتر ہو کہ تم بھائی بھائی ہو اور اس دن تم ایک دوسرے کی گردنیں توڑو گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4337]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 15558، ابن حبان 6684»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4337 in Urdu