🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

875. -- باب: المسلم يبيت في المسجد
-- باب: مسلمان کا مسجد میں رات گزارنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4336
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ" أَنَّهُ كَانَ يَنَامُ، وَهُوَ شَابٌّ أَعْزُبُ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسجدِ نبوی میں سوتے تھے اور وہ کنوارے نوجوان تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4336]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 440، مسلم 2479»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4337
حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ النَّضْرِيِّ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ مُهَاجِرًا وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَإِنْ كَانَ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ الصُّفَّةَ، فَقَدِمْتُهَا وَلَيْسَ لِي بِهَا عَرِيفٌ فَنَزَلَتِ الصُّفَّةَ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَافِقُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ وَيَقْسِمُ بَيْنَهُمَا مُدًّا مِنْ تَمْرٍ فَبَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحْرَقَ بُطُونَنَا التَّمْرُ، وَتَخَرَّقَتْ عَنَّا الْخُنُفُ قَالَ: وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَذَكَرَ مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ، ثُمَّ قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَصَاحِبِي مَكَثْنَا بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً مَا لَنَا طَعَامٌ غَيْرُ الْبَرِيرِ"، وَالْبَرِيرُ ثَمَرُ الْأَرَاكِ" حَتَّى أَتَيْنَا إِخْوَانَنَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَآسَوْنَا مِنْ طَعَامِهِمْ، وَكَانَ جُلُّ طَعَامِهِمُ التَّمْرَ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَوْ قَدَرْتُ لَكُمْ عَلَى الْخُبْزِ وَاللَّحْمِ لَأَطْعَمْتُكُمُوهُ، وَسَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ، أَوْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ تَلْبَسُونَ أَمْثَالَ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، وَيُغْدَى وَيُرَاحُ عَلَيْكُمْ بِالْجِفَانِ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ أَوِ الْيَوْمَ؟ قَالَ:" لَا بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ، أَنْتُمُ الْيَوْمَ إِخْوَانٌ، وَأَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
سیدنا طلحہ نصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ ہجرت کر کے گیا۔ جب بھی کوئی شخص مدینہ ہجرت کر کے آتا، اگر تو کوئی اس کا جاننے والا ہوتا تو وہ اس کے پاس ٹھہرتا اور اگر نہ ہوتا تو وہ اصحابِ صفہ کے ساتھ رہتا۔ میں آیا تو میری بھی کوئی جان پہچان نہیں تھی، چنانچہ میں اصحابِ صفہ کے ساتھ رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو دو آدمیوں کو باہم ساتھی بنا رہے تھے اور ان کے درمیان ایک مد کھجور تقسیم فرما رہے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے تو اچانک ایک شخص نے آواز دی: اے اللہ کے رسول! کھجوروں نے ہمارے پیٹوں کو جلا ڈالا اور ہماری اونی چادریں پھٹ گئیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد اس پریشانی کا تذکرہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم کی طرف سے پہنچی تھی، پھر فرمایا: ”میں اور میرا ساتھی دس راتوں سے زائد ٹھہرے رہے اور ہمارے پاس پیلو کے سوا کوئی کھانا نہیں تھا، یہاں تک کہ ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آئے۔ انہوں نے کھانے کے ذریعے ہماری مدد کی، ان کا زیادہ تر کھانا کھجور تھا۔ اس اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اگر میں روٹی اور گوشت کھلانے کی طاقت رکھتا تو تمہیں ضرور کھلاتا، عنقریب تمہارے اوپر وہ دور آئے گا یا تم میں سے جو اسے پا لے گا (وہ دیکھے گا کہ) تم کعبہ کے غلافوں کی مثل پہنو گے اور صبح و شام تمہارے پاس (کھانوں کے) بڑے بڑے پیالے لائے جائیں گے۔“ انہوں نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آج بہتر ہیں یا اس دن بہتر ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم آج بہتر ہو کہ تم بھائی بھائی ہو اور اس دن تم ایک دوسرے کی گردنیں توڑو گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4337]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 15558، ابن حبان 6684»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4338
أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَعْدَانِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَزْنَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا أَبُو حَامِدٍ الرَّوَادِيُّ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْيَمَانِ قَالَ:" لَمَّا كَثُرَ الْمُهَاجِرُونَ بِالْمَدِينَةِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ دَارٌ وَلَا مَأْوًى أَنْزَلَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، وَسَمَّاهُمْ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ، فَكَانَ يُجَالِسُهُمْ وَيَأْنَسُ بِهِمْ" وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ النَّوْمِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:" فَأَيْنَ كَانَ أَهْلُ الصُّفَّةِ؟" يَعْنِي يَنَامُونَ فِيهِ.
عثمان بن یمان فرماتے ہیں کہ جب مدینہ میں مہاجرین زیادہ ہو گئے اور ان کے لیے کوئی گھر اور ٹھکانا نہ رہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد میں ٹھہرایا اور انہیں ”اصحابِ صفہ“ کا نام دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس بیٹھ کر پیار بھری باتیں کیا کرتے تھے۔
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ان سے مسجد میں سونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اہل صفہ کہاں سوتے تھے، یعنی وہ بھی مسجد میں ہی سوتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4338]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4339
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ السُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، ثنا مُجَاهِدٌ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ:" وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ، وَإِنْ كُنْتُ لَأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ ⦗٦٢٥⦘ الْجُوعِ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ فِيهِ، فَمَرَّ بِي أَبُو بَكْرٍ فَسَأَلْتُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ تَعَالَى مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي عُمَرُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآنِي وَعَرَفَ مَا فِي نَفْسِي، وَمَا فِي وَجْهِي، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" الْحَقْ" وَمَضَى فَاتَّبَعْتُهُ، فَدَخَلَ وَاسْتَأْذَنْتُ فَأَذِنَ لِي، فَدَخَلْتُ، فَوَجَدَ لَبَنًا فِي قَدَحٍ، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ؟" قَالُوا: أَهْدَاهُ لَكَ فُلَانٌ، أَوْ فُلَانَةُ قَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولُ اللهِ قَالَ:" الْحَقْ أَهْلَ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ لِي" قَالَ: وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَا يَأْوُونَ إِلَى أَهْلٍ وَلَا مَالٍ، إِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ يَبْعَثُ بِهَا إِلَيْهِمْ، وَلَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا، وَإِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَأَصَابَ مِنْهَا وَأَشْرَكَهُمْ فِيهَا، فَسَاءَنِي ذَلِكَ، قُلْتُ: وَمَا هَذَا اللَّبَنُ فِي أَهْلِ الصُّفَّةِ؟ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِيبَ مِنْ هَذَا اللَّبَنِ شَرْبَةً أَتَقَوَّى بِهَا، وَأَنَا الرَّسُولُ فَإِذَا جَاءَ أَمَرَنِي أَنْ أُعْطِيَهُمْ فَمَا عَسَى أَنْ يَبْلُغَنِي مِنْ هَذَا اللَّبَنِ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ طَاعَةِ اللهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ بُدٌّ فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ، فَأَقْبَلُوا حَتَّى اسْتَأْذَنُوا فَأَذِنَ لَهُمْ، وَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" خُذْ فَأَعْطِهِمْ" فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ، فَجَعَلْتُ أُعْطِيهِ الرَّجُلَ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدَّ عَلَيَّ الْقَدَحَ، فَأُعْطِيَهُ الْآخَرَ فَيَشْرَبَ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدَّ عَلَيَّ الْقَدَحَ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَوِيَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ، فَأَخَذَ الْقَدَحَ وَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ، وَنَظَرَ إِلَيَّ وَتَبَسَّمَ، وَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" بَقِيَتُ أَنَا وَأَنْتَ" قُلْتُ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" اقْعُدْ فَاشْرَبْ" فَقَعَدْتُ وَشَرِبْتُ، فَقَالَ:" اشْرَبْ" فَشَرِبْتُ، فَقَالَ:" اشْرَبْ" فَشَرِبْتُ، فَمَا زَالَ يَقُولُ:" فَاشْرَبْ، فَأَشْرَبُ" حَتَّى قُلْتُ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا قَالَ:" فَأَرِنِي" فَأَعْطَيْتُهُ الْقَدَحَ، فَحَمِدَ اللهَ وَسَمَّى وَشَرِبَ الْفَضْلَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قسم ہے معبودِ برحق اللہ رب العزت کی کہ میں بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ کو زمین پر رگڑا کرتا تھا اور بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا۔ ایک دن میں لوگوں کی عام گزرگاہ پر بیٹھ گیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے۔ میں نے ان سے اللہ کی کتاب کی آیت کے بارے میں سوال کیا۔ میں نے ان سے صرف اس لیے سوال کیا تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں، لیکن وہ میری بات نہ سمجھ سکے اور چلے گئے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو میں نے ان سے بھی یہی سوال کیا اور میری غرض صرف اور صرف یہ تھی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں، لیکن وہ بھی میری بات کو سمجھے بغیر ہی چلے گئے۔ آخر کار ابوالقاسم (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کا بھی اس راہ سے گزر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرائے اور میرے دل اور چہرے کی کیفیت کو پہچان لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکارا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: ”حاضر! یا رسول اللہ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ چلیں!“ تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلتا گیا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوگئے تو اجازت طلب کرنے کے بعد میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پر پیالے میں دودھ دیکھا تو پوچھا: ”یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟“ انہوں نے جواباً کہا: ”یہ فلاں بندے یا فلاں عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تحفہ بھیجا ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اہل صفہ کو بلانے کے لیے بھیجا اور اہل صفہ مسلمانوں کے مہمان تھے، ان کا کوئی گھر بار اور مال نہ تھا جس کی طرف وہ جاتے، جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقے کا مال آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کچھ لیے بغیر ان کی طرف بھیج دیتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی تحفہ آتا تو تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں شریک کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب بھی انہیں دودھ میں شریک کرنا چاہتے تھے، مجھے یہ بات ناگوار گزری، میں نے سوچا کہ اس دودھ کی اصحابِ صفہ کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے؟ میرا یہ ارادہ تھا کہ یہ دودھ مجھے مل جائے تاکہ میں اپنی بھوک کو دور کروں اور قاصد بھی میں ہی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں لے کر آؤں اور مجھے دودھ کے ملنے کی امید نہ تھی لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی ضروری تھی۔ میں ان کے پاس گیا اور انہیں بلا کر لایا، انہوں نے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی تو وہ گھر میں بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: ”جی! اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پیالہ لو اور ان کو دودھ پلاؤ۔“ میں نے پیالہ پکڑا، میں ایک آدمی کو دیتا وہ سیر ہو کر پینے کے بعد پیالہ واپس کرتا۔ پھر میں دوسرے کو دیتا وہ بھی سیر ہو کر پیالہ واپس کرتا۔ یہاں تک کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا اور تمام لوگوں نے سیر ہو کر دودھ پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ پکڑا اور میری طرف دیکھ کر تبسم فرمایا اور فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: ”جی! اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیو!“ تو میں نے پیا، پھر فرمایا: ”اور پیو!“ اور تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”پیو!“ میں نے پیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی الفاظ دہرا رہے تھے تو میں نے عرض کیا: ”قسم ہے اللہ کی! اب تو میں بالکل گنجائش نہیں پاتا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دو۔“ میں نے پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تعریف کی اور «بِسْمِ اللّٰہِ» ”اللہ کا نام لینے“ کے بعد باقی ماندہ دودھ پی لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4339]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6246- 6452»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4340
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: اسْتُعْمِلَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتُمَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَأَبَى سَهْلٌ، فَقَالَ لَهُ: أَمَّا إِذَا أَبِيتَ، فَقُلْ: لَعَنَ اللهُ أَبَا تُرَابٍ، فَقَالَ سَهْلٌ: مَا كَانَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْمٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي تُرَابٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ إِذَا دُعِيَ بِهِ، فَقَالَ لَهُ: أَخْبِرْنَا عَنْ قِصَّتِهِ لِمَ سُمِّيَ أَبَا تُرَابٍ؟ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ لَهَا:" أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟" فَقَالَتْ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ فَغَاضَبَنِي، ⦗٦٢٦⦘ فَخَرَجَ وَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ:" انْظُرْ أَيْنَ هُوَ" فَجَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ، فَأَصَابَهُ تُرَابٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَيَقُولُ:" قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: آلِ مروان کا کوئی شخص مدینہ پر حاکم بنایا گیا، اس نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما کو بلا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالی دینے کا حکم دیا۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما نے انکار کر دیا تو اس نے کہا: اگر آپ گالی نہیں دے سکتے تو کم از کم اتنا کہہ دو کہ اللہ ابو تراب پر لعنت کرے۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو «أَبُو تُرَابٍ» ”ابو تراب“ نام سب ناموں سے زیادہ محبوب تھا، جب ان کو اس نام سے پکارا جاتا تو وہ بڑی خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان سے کہا گیا کہ آپ ہمیں بتائیں کہ ان کا نام «أَبُو تُرَابٍ» ”ابو تراب“ کیوں رکھا گیا؟ فرمانے لگے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ موجود نہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فاطمہ! تیرے چچا کا بیٹا (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کہاں ہے؟“ فرمانے لگیں: میرے اور ان کے درمیان کچھ بات ہوئی تو وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور واپس نہیں لوٹے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بندے سے فرمایا: ”دیکھو وہ کہاں ہیں؟“ اس بندے نے آ کر جواب دیا: اے اللہ کے رسول! وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے اور ان کے پہلو سے چادر ہٹی ہوئی تھی اور ان کو مٹی لگی ہوئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مٹی کو صاف کر رہے تھے اور فرما رہے تھے: «قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ» ”اے ابو تراب! اٹھو، اے ابو تراب! اٹھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4340]
تخریج الحدیث: «بخاري 3703، مسلم 2409»

الحكم على الحديث: بخاري 3703، مسلم 2409
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4341
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى، ثنا يُونُسُ، أَنَّ الْحَسَنَ سُئِلَ عَنِ الْقَائِلَةِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:" رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ يَقِيلُ فِي الْمَسْجِدِ، وَيَقُومُ وَأَثَرُ الْحَصَى بِجَنْبِهِ، فَيَقُولُ: هَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، هَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ" قَالَ يُونُسُ بِإِصْبَعِهِ وَحَرَّكَ أَبُو بَكْرٍ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ، وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ غِلْمَانٌ" قُلْتُ لِيُونُسَ: ابْنُ كَمْ كَانَ الْحَسَنُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ؟ قَالَ:" ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، وُلِدَ الْحَسَنُ لِسَنَتَيْنِ بَقِيَتَا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ، ثُمَّ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مَا يَدُلُّ عَلَى كَرَاهِيَتِهِمُ النَّوْمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَكَأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا لِمَنْ وَجَدَ مَسْكَنًا أَنْ لَا يَقْصِدَ الْمَسْجِدَ لِلنَّوْمِ فِيهِ.
حسن بصری رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ مسجد میں قیلولہ کرنے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب وہ خلیفہ تھے تو مسجد میں قیلولہ کیا کرتے تھے۔ جب وہ بیدار ہوتے تو کنکریوں کے نشانات ان کے پہلو پر ہوتے تھے۔ تو وہ فرماتے: یہ ہیں امیر المؤمنین۔
(ب) راوی یونس نے اپنی انگلی کو حرکت دی اور ابوبکر نے بھی اپنی انگلی کو حرکت دی اور اس وقت ہم بچے تھے، ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے یونس سے کہا: سیدنا حسن رحمہ اللہ کی عمر کتنی تھی جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے؟ انہوں نے فرمایا: چودہ سال۔ سیدنا حسن رحمہ اللہ کی پیدائش ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال باقی تھے۔
(ح) ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے، پھر مجاہد اور سعید بن جبیر رحمہما اللہ سے ایسی روایات منقول ہیں جو ان کے مسجد میں سونے کو ناپسند کرنے پر دلالت کرتی ہیں، گویا انہوں نے یہ پسند کیا کہ جس کی اپنی رہائش گاہ موجود ہو وہ مسجد میں سونے کا قصد نہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4341]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4342
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ الْأَزْدِيُّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ بِشَيْءٍ فَهُوَ حَظُّهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو جس غرض سے مسجد میں آتا ہے وہی اس کا حصہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4342]
تخریج الحدیث: «ابوداؤد 472»

الحكم على الحديث: ابوداؤد 472
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں