🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
875. -- باب: المسلم يبيت في المسجد
-- باب: مسلمان کا مسجد میں رات گزارنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4339
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ السُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، ثنا مُجَاهِدٌ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ:" وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ، وَإِنْ كُنْتُ لَأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ ⦗٦٢٥⦘ الْجُوعِ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ فِيهِ، فَمَرَّ بِي أَبُو بَكْرٍ فَسَأَلْتُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ تَعَالَى مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي عُمَرُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآنِي وَعَرَفَ مَا فِي نَفْسِي، وَمَا فِي وَجْهِي، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" الْحَقْ" وَمَضَى فَاتَّبَعْتُهُ، فَدَخَلَ وَاسْتَأْذَنْتُ فَأَذِنَ لِي، فَدَخَلْتُ، فَوَجَدَ لَبَنًا فِي قَدَحٍ، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ؟" قَالُوا: أَهْدَاهُ لَكَ فُلَانٌ، أَوْ فُلَانَةُ قَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولُ اللهِ قَالَ:" الْحَقْ أَهْلَ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ لِي" قَالَ: وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَا يَأْوُونَ إِلَى أَهْلٍ وَلَا مَالٍ، إِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ يَبْعَثُ بِهَا إِلَيْهِمْ، وَلَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا، وَإِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَأَصَابَ مِنْهَا وَأَشْرَكَهُمْ فِيهَا، فَسَاءَنِي ذَلِكَ، قُلْتُ: وَمَا هَذَا اللَّبَنُ فِي أَهْلِ الصُّفَّةِ؟ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِيبَ مِنْ هَذَا اللَّبَنِ شَرْبَةً أَتَقَوَّى بِهَا، وَأَنَا الرَّسُولُ فَإِذَا جَاءَ أَمَرَنِي أَنْ أُعْطِيَهُمْ فَمَا عَسَى أَنْ يَبْلُغَنِي مِنْ هَذَا اللَّبَنِ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ طَاعَةِ اللهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ بُدٌّ فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ، فَأَقْبَلُوا حَتَّى اسْتَأْذَنُوا فَأَذِنَ لَهُمْ، وَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" خُذْ فَأَعْطِهِمْ" فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ، فَجَعَلْتُ أُعْطِيهِ الرَّجُلَ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدَّ عَلَيَّ الْقَدَحَ، فَأُعْطِيَهُ الْآخَرَ فَيَشْرَبَ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدَّ عَلَيَّ الْقَدَحَ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَوِيَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ، فَأَخَذَ الْقَدَحَ وَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ، وَنَظَرَ إِلَيَّ وَتَبَسَّمَ، وَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" بَقِيَتُ أَنَا وَأَنْتَ" قُلْتُ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" اقْعُدْ فَاشْرَبْ" فَقَعَدْتُ وَشَرِبْتُ، فَقَالَ:" اشْرَبْ" فَشَرِبْتُ، فَقَالَ:" اشْرَبْ" فَشَرِبْتُ، فَمَا زَالَ يَقُولُ:" فَاشْرَبْ، فَأَشْرَبُ" حَتَّى قُلْتُ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا قَالَ:" فَأَرِنِي" فَأَعْطَيْتُهُ الْقَدَحَ، فَحَمِدَ اللهَ وَسَمَّى وَشَرِبَ الْفَضْلَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قسم ہے معبودِ برحق اللہ رب العزت کی کہ میں بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ کو زمین پر رگڑا کرتا تھا اور بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا۔ ایک دن میں لوگوں کی عام گزرگاہ پر بیٹھ گیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے۔ میں نے ان سے اللہ کی کتاب کی آیت کے بارے میں سوال کیا۔ میں نے ان سے صرف اس لیے سوال کیا تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں، لیکن وہ میری بات نہ سمجھ سکے اور چلے گئے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو میں نے ان سے بھی یہی سوال کیا اور میری غرض صرف اور صرف یہ تھی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں، لیکن وہ بھی میری بات کو سمجھے بغیر ہی چلے گئے۔ آخر کار ابوالقاسم (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کا بھی اس راہ سے گزر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرائے اور میرے دل اور چہرے کی کیفیت کو پہچان لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکارا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: ”حاضر! یا رسول اللہ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ چلیں!“ تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلتا گیا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوگئے تو اجازت طلب کرنے کے بعد میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پر پیالے میں دودھ دیکھا تو پوچھا: ”یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟“ انہوں نے جواباً کہا: ”یہ فلاں بندے یا فلاں عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تحفہ بھیجا ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اہل صفہ کو بلانے کے لیے بھیجا اور اہل صفہ مسلمانوں کے مہمان تھے، ان کا کوئی گھر بار اور مال نہ تھا جس کی طرف وہ جاتے، جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقے کا مال آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کچھ لیے بغیر ان کی طرف بھیج دیتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی تحفہ آتا تو تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں شریک کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب بھی انہیں دودھ میں شریک کرنا چاہتے تھے، مجھے یہ بات ناگوار گزری، میں نے سوچا کہ اس دودھ کی اصحابِ صفہ کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے؟ میرا یہ ارادہ تھا کہ یہ دودھ مجھے مل جائے تاکہ میں اپنی بھوک کو دور کروں اور قاصد بھی میں ہی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں لے کر آؤں اور مجھے دودھ کے ملنے کی امید نہ تھی لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی ضروری تھی۔ میں ان کے پاس گیا اور انہیں بلا کر لایا، انہوں نے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی تو وہ گھر میں بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: ”جی! اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پیالہ لو اور ان کو دودھ پلاؤ۔“ میں نے پیالہ پکڑا، میں ایک آدمی کو دیتا وہ سیر ہو کر پینے کے بعد پیالہ واپس کرتا۔ پھر میں دوسرے کو دیتا وہ بھی سیر ہو کر پیالہ واپس کرتا۔ یہاں تک کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا اور تمام لوگوں نے سیر ہو کر دودھ پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ پکڑا اور میری طرف دیکھ کر تبسم فرمایا اور فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: ”جی! اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیو!“ تو میں نے پیا، پھر فرمایا: ”اور پیو!“ اور تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”پیو!“ میں نے پیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی الفاظ دہرا رہے تھے تو میں نے عرض کیا: ”قسم ہے اللہ کی! اب تو میں بالکل گنجائش نہیں پاتا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دو۔“ میں نے پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تعریف کی اور «بِسْمِ اللّٰہِ» ”اللہ کا نام لینے“ کے بعد باقی ماندہ دودھ پی لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4339]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6246- 6452»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4339 in Urdu