السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
878. -- باب: ذكر المعنى في كراهية الصلاة في أحد هذين الموضعين دون الآخر
-- باب: ان دونوں جگہوں میں سے ایک جگہ نماز مکروہ ہونے اور دوسری میں نہ ہونے کی وجہ کے بیان کا ذکر
حدیث نمبر: 4360
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَاجِبٍ، ثنا سَخْتَوَيْهِ بْنُ مَازْيَارَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَيَّانَ يَذْكُرُ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْغَنَمَ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ فَامْسَحُوا رُغَامَهَا وَصَلُّوا فِي مَرَابِضِهَا" ⦗٦٣١⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَأَمَرَ أَنْ يُصَلَّى فِي مُرَاحِهَا، يَعْنِي، وَاللهُ أَعْلَمُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ مُرَاحِهَا الَّذِي لَا بَعْرَ وَلَا بَوْلَ فِيهِ قَالَ: وَأَكْرَهُ لَهُ الصَّلَاةَ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا قَذَرٌ؛ لِنَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ صَلَّى أَجْزَأَهُ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَمَرَّ بِهِ شَيْطَانٌ فَخَنَقَهُ حَتَّى وَجَدَ بَرْدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدِهِ وَلَمْ يُفْسِدْ ذَلِكَ صَلَاتَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکریاں جنتی جانوروں میں سے ہیں، ان کے ناک کی بلغم صاف کر دیا کرو اور ان کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کا حکم دیا، یعنی واللہ اعلم اس جگہ میں جس پر ان کے باڑے کا نام بولا جاتا ہو اور اس میں نہ مینگنیاں ہوں نہ پیشاب۔ اور فرماتے ہیں کہ میں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کو مکروہ جانتا ہوں، اگرچہ ان میں گندگی نہ بھی ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔ اگر کوئی نماز پڑھ لیتا ہے تو ہو جائے گی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے شیطان گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی گردن دبا دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی زبان کی ٹھنڈک اپنے ہاتھ میں محسوس کی اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز فاسد نہیں ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4360]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کا حکم دیا، یعنی واللہ اعلم اس جگہ میں جس پر ان کے باڑے کا نام بولا جاتا ہو اور اس میں نہ مینگنیاں ہوں نہ پیشاب۔ اور فرماتے ہیں کہ میں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کو مکروہ جانتا ہوں، اگرچہ ان میں گندگی نہ بھی ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔ اگر کوئی نماز پڑھ لیتا ہے تو ہو جائے گی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے شیطان گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی گردن دبا دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی زبان کی ٹھنڈک اپنے ہاتھ میں محسوس کی اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز فاسد نہیں ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4360]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4360 in Urdu