السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
878. -- باب: ذكر المعنى في كراهية الصلاة في أحد هذين الموضعين دون الآخر
-- باب: ان دونوں جگہوں میں سے ایک جگہ نماز مکروہ ہونے اور دوسری میں نہ ہونے کی وجہ کے بیان کا ذکر
حدیث نمبر: 4361
أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً، فَضَمَّ يَدَهُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا صَلَّى، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحْدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا أَنَّ الشَّيْطَانَ أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدِيَّ فَخَنَقْتُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدِيَّ، وَايْمُ اللهِ لَوْلَا مَا سَبَقَنِي إِلَيْهِ أَخِي سُلَيْمَانُ لَارْتُبِطَ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يُطِيفَ بِهِ وَلَدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ" وَقَدْ مَضَى مَعْنَى هَذَا فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فرض نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں اپنا ہاتھ ملایا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو ہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! نماز میں کوئی نئی چیز آئی ہے یعنی حکم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ شیطان نے میرے سامنے سے گزرنے کی کوشش کی، میں نے اس کی گردن دبا دی تو اس کی زبان کی ٹھنڈک میں نے اپنے ہاتھ میں محسوس کی۔ اللہ کی قسم! اگر میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا سبقت نہ لے جا چکی ہوتی تو میں اس کو مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیتا اور صبح مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4361]
تخریج الحدیث: «حسن۔ عبدالرزاق 2338، احمد 20495»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4361 in Urdu