🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
105. -- باب: التخلي عند الحاجة
-- باب: قضائے حاجت کے لیے خلوت اختیار کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 444
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْبَرَازَ تَبَاعَدَ حَتَّى لَا يَرَاهُ أَحَدٌ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ وَلَا شَجَرٌ، فَقَالَ لِي:" يَا جَابِرُ، خُذِ الْإِدَاوَةَ وَانْطَلِقْ بِنَا". فَمَلَأْتُ الْإِدَاوَةَ مَاءً، وَانْطَلَقْنَا، فَمَشَيْنَا حَتَّى لَا نَكَادُ نُرَى، فَإِذَا شَجَرَتَانِ بَيْنَهُمَا أَذْرُعٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا جَابِرُ، انْطَلِقْ فَقُلْ لِهَذِهِ الشَّجَرَةِ: يَقُولُ لَكِ رَسُولُ اللهِ: الْحَقِي بِصَاحِبَتِكِ حَتَّى أَجْلِسَ خَلْفَكُمَا" فَفَعَلْتُ، فَرَجَفَتْ حَتَّى لَحِقَتْ بِصَاحِبَتِهَا، فَجَلَسَ خَلْفَهُمَا حَتَّى قَضَى حَاجَتَهُ" وَرُوِيَ فِي إبْعَادِ الْمَذْهَبِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تو دور چلے جاتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بھی نہ دیکھتا۔ ہم ایک صاف زمین میں اترے جس میں کوئی نشان اور درخت نہ تھا (صحرا وغیرہ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے جابر! برتن پکڑ اور میرے ساتھ چل۔“ میں نے پانی کا برتن بھرا، ہم پیدل ہی چلے یہاں تک کہ ہم اتنے قریب نہ رہے کہ دیکھے جائیں۔ دو درخت الگ الگ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! جا اور اس درخت کو کہہ: تم کو رسول اللہ کہہ رہے ہیں کہ اپنے ساتھی (درخت) سے مل جاؤ، تاکہ میں تم دونوں کے پیچھے بیٹھ جاؤں۔“ میں نے ایسے ہی کہا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ اس درخت نے حرکت کی اور اپنے ساتھی درخت سے مل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے بیٹھے اور اپنی حاجت کو پورا کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 444]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بشواهده أخرجه الدارمي 17»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 444 in Urdu