السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
889. -- باب: تأكيد صلاة الوتر
-- باب: نمازِ وتر کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 4463
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ جَنَاحٍ الْكَشَانِيُّ بِبُخَارَى مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ بِدِمَشْقَ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ زَادَكُمْ صَلَاةً إِلَى صَلَاتِكُمْ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ أَلَا وَهِيَ الرَّكْعَتَانِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ" قَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ: قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَامٍ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَامٍ مُحَدِّثُ أَهْلِ الشَّامِ وَهُوَ صَدُوقُ الْحَدِيثِ، وَمَنْ لَمْ يَكْتُبْ حَدِيثَهُ مُسْنَدَهُ وَمُنْقَطِعَهُ فَلَيْسَ بِصَاحِبِ حَدِيثٍ وَبَلَغَنِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ أَنَّهُ قَالَ: لَوْ أَمْكَنَنِي أَنْ أَرْحَلَ إِلَى ابْنِ بُجَيْرٍ لَرَحَلْتُ إِلَيْهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ ⦗٦٦٠⦘ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ خُزَيْمَةَ يَقُولُ، فَذَكَرَهُ فِي حِكَايَتِهِ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ ابْنِ بُجَيْرٍ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ رب العزت نے تمہاری نمازوں میں ایک نماز کا اضافہ کر دیا ہے۔ یہ نماز تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔ آگاہ رہو! یہ فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں ہیں۔“
عباس بن ولید کہتے ہیں کہ مجھ سے یحییٰ بن معین نے کہا: یہ حدیث معاویہ بن سلام کی روایت سے غریب ہے، اور معاویہ بن سلام اہل شام کے محدث ہیں اور حدیث میں صدوق (سچے) ہیں، اور جو ان کی متصل اور منقطع احادیث نہ لکھے وہ صاحبِ حدیث نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4463]
عباس بن ولید کہتے ہیں کہ مجھ سے یحییٰ بن معین نے کہا: یہ حدیث معاویہ بن سلام کی روایت سے غریب ہے، اور معاویہ بن سلام اہل شام کے محدث ہیں اور حدیث میں صدوق (سچے) ہیں، اور جو ان کی متصل اور منقطع احادیث نہ لکھے وہ صاحبِ حدیث نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4463]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4463 in Urdu