السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
109. -- باب: ما يقول إذا أراد دخول الخلاء
-- باب: بیت الخلاء میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو کیا پڑھے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 454
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاودَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ، فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ". وَهَكَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ عَلَيَّةَ، وَأَبُو الْجَمَاهِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ. وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ وَجَمَاعَةٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَقَالَ أَبُو عِيسَى: قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي الْبُخَارِيَّ أَيُّ الرِّوَايَاتِ عِنْدَكَ أَصَحُّ؟ فَقَالَ: لَعَلَّ قَتَادَةَ سَمِعَ مِنْهُمَا جَمِيعًا، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَلَمْ يقْضِ فِي هَذَا بِشَيْءٍ. قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَقِيلَ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَهُوَ وَهْمٌ. قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ: الْخُبُثُ بِضَمِّ الْبَاءِ جَمَاعَةُ الْخَبِيثِ وَالْخَبَائِثِ جَمْعُ الْخَبِيثَةِ يُرِيدُ ذُكْرَانَ الشَّيَاطِينِ وَإِنَاثِهِمْ.
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت الخلاء میں شیاطین حاضر ہوتے ہیں۔ لہٰذا جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء جائے تو وہ «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے“ کہے۔“
(ب) امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ نے اپنے استاد امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا: ”تمہارے نزدیک کون سی روایت زیادہ صحیح ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”شاید قتادہ نے دونوں سے اکٹھے سنا۔“ اور انہوں نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا۔
(ج) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک سند اس طرح ہے: «عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ» اور یہ راوی کا وہم ہے۔
(د) ابو سلیمان رحمہ اللہ نے باء کے ضمہ کے ساتھ «خُبُثٌ» پڑھا ہے، «خُبُثٌ» خبیث کی اور «خَبَائِثُ» خبیثہ کی جمع ہے، یعنی ان کی مراد شیاطین مذکر اور مونث ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 454]
(ب) امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ نے اپنے استاد امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا: ”تمہارے نزدیک کون سی روایت زیادہ صحیح ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”شاید قتادہ نے دونوں سے اکٹھے سنا۔“ اور انہوں نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا۔
(ج) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک سند اس طرح ہے: «عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ» اور یہ راوی کا وہم ہے۔
(د) ابو سلیمان رحمہ اللہ نے باء کے ضمہ کے ساتھ «خُبُثٌ» پڑھا ہے، «خُبُثٌ» خبیث کی اور «خَبَائِثُ» خبیثہ کی جمع ہے، یعنی ان کی مراد شیاطین مذکر اور مونث ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 454]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 454 in Urdu