السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. -- باب: تغطية الرأس عند دخول الخلاء والاعتماد على الرجل اليسرى إذا قعد إن صح الخبر فيه
-- باب: بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت سر ڈھانپنے اور بیٹھتے وقت بائیں پاؤں پر زور دینے کا بیان بشرطیکہ اس بارے میں حدیث صحیح ثابت ہو
حدیث نمبر: 455
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْقُرَشِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ غَطَّى رَأْسَهُ، وَإِذَا أَتَى أَهْلَهُ غَطَّى رَأْسَهُ" قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الْحَدِيثُ أَحَدُ مَا أُنْكِرَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ يُونُسَ الْكُدَيْمِيِّ، أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: لَا أَعْلَمُهُ رَوَاهُ غَيْرُ الْكُدَيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَالْكُدَيْمِيُّ أَظْهَرُ امْرِئٍ أَنْ يَحْتَاجَ إِلَى أَنْ يُبَيِّنَ ضَعْفًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ فِي تَغْطِيَةِ الرَّأْسِ عِنْدَ دُخُولِ الْخَلَاءِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَهُوَ عَنْهُ صَحِيحٌ، وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو اپنے سر کو ڈھانپ لیتے اور جب اپنی بیوی کے پاس آتے تو بھی اپنے سر کو ڈھانپ لیتے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث محمد بن یونس کدیمی کی وجہ سے منکر ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت سر ڈھانپنا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے صحیح منقول ہے۔ اسی طرح حبیب بن صالح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت نقل کرتے ہیں۔
ابو احمد بن عدی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ کدیمی کے علاوہ کسی نے اسے اس سند سے روایت کیا ہو، اور کدیمی کا ضعف اتنا ظاہر ہے کہ اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 455]
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث محمد بن یونس کدیمی کی وجہ سے منکر ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت سر ڈھانپنا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے صحیح منقول ہے۔ اسی طرح حبیب بن صالح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت نقل کرتے ہیں۔
ابو احمد بن عدی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ کدیمی کے علاوہ کسی نے اسے اس سند سے روایت کیا ہو، اور کدیمی کا ضعف اتنا ظاہر ہے کہ اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 455]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو نعيم في الحلية 2/182»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 455 in Urdu