السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
948. -- باب: من أوتر بخمس أو ثلاث لا يجلس ولا يسلم إلا في الآخرة منهن
-- باب: جس نے پانچ یا تین وتر پڑھے، وہ ان کے آخر ہی میں بیٹھے اور سلام پھیرے۔
حدیث نمبر: 4804
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: بِكُمْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ:" كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ، وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ، وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ، وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ، وَلَا بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِ عَشْرَةَ". زَادَ أَحْمَدُ: وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، قُلْتُ: مَا يُوتِرُ؟ قَالَتْ:" لَمْ يَكُنْ يَدَعْ ذَلِكَ". ⦗٤٢⦘ وَلَمْ يَذْكُرْ أَحْمَدُ: وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ، وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يُرِيدَ بِهِ ثَلَاثًا لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِجُلُوسٍ وَلَا تَسْلِيمٍ، فَيَكُونُ فِي مَعْنَى رِوَايَةِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى رِوَايَةِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي الْوِتْرِ بِخَمْسِ رَكَعَاتٍ.
عبداللہ بن ابی قیس فرماتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کتنے تھے؟ وہ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار اور تین، چھ اور تین، آٹھ اور تین، دس اور تین اور سات سے کم وتر نہیں پڑھتے تھے اور نہ تیرہ سے زیادہ اور احمد رحمہ اللہ نے زیادہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعات سے وتر نہیں پڑھتے تھے۔ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کیسے تھے؟ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کبھی نہیں چھوڑا۔ احمد رحمہ اللہ نے چھ اور تین کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ ممکن ہے ان کی مراد یہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین وتر پڑھتے تھے، نہ تو درمیان میں بیٹھتے اور نہ سلام پھیرتے تھے، تو یہ ہشام بن عروہ رحمہ اللہ کی روایت کے معنی میں ہو گی۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ رکعات وتر کے بارے میں ہشام بن عروہ رحمہ اللہ کی روایت کے ہم معنی روایت منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4804]
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ رکعات وتر کے بارے میں ہشام بن عروہ رحمہ اللہ کی روایت کے ہم معنی روایت منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4804]
تخریج الحدیث: «قوي۔ ابوداؤد 13062»
الحكم على الحديث: قوي
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4804 in Urdu