🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1014. -- باب: من كره أن يفتتح الرجل الصلاة لنفسه ثم يدخل مع الإمام
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے مکروہ جانا کہ آدمی اپنی اکیلے نماز شروع کرے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5149
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَتَاهُ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ" فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ إِنْ يَقُمْ مَقَامَكَ يَبْكِ فَلَا يَقْدِرُ عَلَى الْقِرَاءَةِ فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ" فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ" إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ⦗١٣٤⦘ فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ" فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ الْأَرْضَ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ: أَنْ صَلِّ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ وَقَعَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنْبِهِ يُصَلِّي، وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الْأَعْمَشِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ میں نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل ہیں، اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوئے تو روئیں گے اور قرأت نہیں کر سکیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو۔“ تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: ”تم یوسف کی عورتوں کی طرح ہو، ابوبکر کو حکم دو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے سہارے نکلے گویا میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی وجہ سے زمین پر لکیریں بن رہی تھیں۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو پیچھے ہٹنا شروع ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ نماز پڑھاؤ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5149]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5079»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5149 in Urdu