السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1104. -- باب: وجوب الجمعة على من كان خارج المصر في موضع يبلغه النداء
-- باب: شہر سے باہر ایسی جگہ موجود شخص پر جمعہ کا فرض ہونا جہاں تک اذان کی آواز پہنچتی ہو
حدیث نمبر: 5584
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْ، فَلَا صَلَاةَ لَهُ". تَابَعَهُ قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ، عَنْ شُعْبَةَ فِي رَفْعِهِ وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ، وَخَالَفَهُمَا غَيْرُهُمَا مِنَ الثِّقَاتِ.
سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اذان سن کر پھر اس کو قبول نہیں کرتا (یعنی نماز کے لیے نہیں آتا) اس کی کوئی نماز نہیں۔“
قراد ابو نوح نے شعبہ سے اسے مرفوع بیان کرنے میں ان کی متابعت کی ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا، لیکن دوسرے ثقہ راویوں نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5584]
قراد ابو نوح نے شعبہ سے اسے مرفوع بیان کرنے میں ان کی متابعت کی ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا، لیکن دوسرے ثقہ راویوں نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5584]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 4940»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5584 in Urdu