السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1250. -- باب: القراءة في العيدين
-- باب: عیدین کی نماز میں قراءت کا بیان
حدیث نمبر: 6191
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ:" مَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ؟ فَقَالَ:" كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِـ قَافْ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى. قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ: هَذَا ثَابِتٌ إِنْ كَانَ عُبَيْدُ اللهِ لَقِيَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا لِأَنَّ عُبَيْدَ اللهِ لَمْ يُدْرِكْ أَيَّامَ عُمَرَ وَمَسْأَلَتَهُ إِيَّاهُ، وَبِهَذِهِ الْعِلَّةِ تَرَكَ الْبُخَارِيُّ إِخْرَاجَ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الصَّحِيحِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، لِأَنَّ فُلَيْحَ بْنَ سُلَيْمَانَ رَوَاهُ عَنْ ضَمْرَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ قَالَ: سَأَلَنِي عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَصَارَ الْحَدِيثُ بِذَلِكَ مَوْصُولًا.
عبید اللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں کیا پڑھتے تھے؟ فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ” ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ [سورة ق: 1] اور ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾ [سورة القمر: 1] “ پڑھا کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے حرملہ کی روایت میں فرمایا: یہ ثابت ہے اگر عبید اللہ کی ابو واقد لیثی سے ملاقات ہوئی ہو۔ شیخ فرماتے ہیں: یہ اس لیے کہ عبید اللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ اور ان کا ابو واقد سے سوال کرنا نہیں پایا، اسی علت کی وجہ سے امام بخاری نے یہ حدیث صحیح میں نقل نہیں کی، اور امام مسلم نے اسے نقل کیا ہے کیونکہ فلیح بن سلیمان نے اسے ضمرہ سے، انہوں نے عبید اللہ سے اور انہوں نے ابو واقد سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: مجھ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا، تو اس طرح یہ حدیث متصل ہو گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6191]
امام شافعی رحمہ اللہ نے حرملہ کی روایت میں فرمایا: یہ ثابت ہے اگر عبید اللہ کی ابو واقد لیثی سے ملاقات ہوئی ہو۔ شیخ فرماتے ہیں: یہ اس لیے کہ عبید اللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ اور ان کا ابو واقد سے سوال کرنا نہیں پایا، اسی علت کی وجہ سے امام بخاری نے یہ حدیث صحیح میں نقل نہیں کی، اور امام مسلم نے اسے نقل کیا ہے کیونکہ فلیح بن سلیمان نے اسے ضمرہ سے، انہوں نے عبید اللہ سے اور انہوں نے ابو واقد سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: مجھ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا، تو اس طرح یہ حدیث متصل ہو گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6191]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 891»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6191 in Urdu