السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1282. -- باب: : كيف يصلى في الخسوف
-- باب: گرہن میں نماز کیسے پڑھی جائے؟
حدیث نمبر: 6307
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ التَّمِيمِيُّ، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا مِنْ آيَاتِ اللهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا، وَتَصَدَّقُوا، وَاذْكُرُوا اللهَ، وَادْعُوهُ" ثُمَّ قَالَ:" يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللهِ إِنْ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا" قَالَتْ: ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ:" أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ". قَالَ: وَحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
(الف) ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام لمبا کیا، پھر رکوع کیا تو رکوع بھی لمبا فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا۔ پھر لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر رکوع کیا اور رکوع کو لمبا کر دیا، لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا قیام کیا، لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا رکوع کیا، لیکن یہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، وہ پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا رکوع کیا، لیکن وہ پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو سورج روشن ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان فرمائی۔ پھر فرمایا: ”سورج اور چاند کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں۔ جب تم ان کو دیکھو تو نماز پڑھا کرو، صدقہ، اللہ کا ذکر اور دعا کیا کرو۔“ پھر فرمایا: ”اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! تمہارا کوئی بھی اللہ سے زیادہ غیور نہیں کہ اس کا بندہ یا اس کی لونڈی زنا کرے۔ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! اگر تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم روؤ زیادہ اور ہنسو کم۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا لیے اور فرمایا: ”آگاہ رہو! میں نے پہنچا دیا۔“
(ب) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6307]
(ب) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6307]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1009»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6307 in Urdu