السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1282. -- باب: : كيف يصلى في الخسوف
-- باب: گرہن میں نماز کیسے پڑھی جائے؟
حدیث نمبر: 6308
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ ⦗٤٥١⦘ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ يَهُودِيَّةً جَاءَتْ تَسْأَلُهَا فَقَالَتْ لَهَا:" أَعَاذَكِ اللهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ. فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَائِذًا بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ" ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَرَجَعَ ضُحًى، فَمَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الْحِجْرِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ قِيَامًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُو دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُو دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ وَانْصَرَفَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَهُوَ عَبْدُ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ.
(٦٣٠٨) عمرۃ بنت عبد الرحمن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتی ہیں کہ ان کے پاس ایک یہودی عورت آئی (عذابِ قبر سے متعلق پوچھنے لگی) تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تجھے عذابِ قبر سے بچائے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ سے پوچھا: کیا لوگ قبروں میں عذاب دیے جائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک صبح سواری پر سوار ہوئے تو سورج گرہن ہوچکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کے وقت واپس آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجر کے درمیان سے گزرے۔ پھر نماز کے لیے کھڑے ہوگئے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا قیام کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ کیا۔ پھر کھڑے ہوئے اور لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا۔ پھر لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ کیا اور چلے گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ نے چاہا۔ پھر فرمایا کہ تم عذاب قبر سے پناہ مانگو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6308]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1002»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6308 in Urdu