السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1282. -- باب: : كيف يصلى في الخسوف
-- باب: گرہن میں نماز کیسے پڑھی جائے؟
حدیث نمبر: 6309
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَةَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ أَتَتْ يَهُودِيَّةٌ فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا لَنُعَذَّبُ فِي قُبُورِنَا؟ فَقَالَ كَلِمَةً:" إِنِّي عَائِذٌ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ" قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِي مَرْكَبٍ وَكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجْتُ أَنَا وَنِسْوَةٌ بَيْنَ الْحِجْرِ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ سَرِيعًا حَتَّى قَامَ فِي مُصَلَّاهُ، فَكَبَّرَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُو دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ سُجُودًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ سُجُودًا طَوِيلًا، وَهُو دُونَ السُّجُودِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَكَانَتْ صَلَاتُهُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، قَالَتْ فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَقَالَ:" إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ كَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ، أَوْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ"..
عمرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ ان کے پاس ایک یہودی عورت آئی اور پوچھنے لگی (اور دعا دی کہ): اللہ آپ کو عذابِ قبر سے پناہ دے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنی قبروں میں عذاب دیے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات ارشاد فرمائی: ”میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“۔ پھر ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قافلے میں گزرے اور سورج گرہن ہو چکا تھا۔ پھر میں اور دوسری عورتیں حجرے سے نکلیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قافلے سے جلدی واپس آگئے اور جائے نماز پر کھڑے ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور لمبا قیام کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا سجدہ کیا۔ پھر سجدے سے سر اٹھایا، پھر لمبا سجدہ کیا۔ وہ پہلے سجدے سے کم تھا۔ پھر دوسری مرتبہ بھی ایسے ہی کیا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز چار رکوع اور چار سجدوں پر مشتمل تھی۔ فرماتی ہیں: اس کے بعد میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ عذابِ قبر سے پناہ مانگ رہے تھے اور فرمایا: «إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ كَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ أَوْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ» ”تم اپنی قبروں میں فتنے میں ڈالے جاؤ گے جیسے دجال کا فتنہ ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6309]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6309 in Urdu