السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1306. -- باب: الدليل على أن السنة في صلاة الاستسقاء السنة في صلاة العيدين، وأنه يصليها ركعتين كما يصلي في العيدين بلا أذان ولا إقامة في وقت صلاة العيد
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ نمازِ استسقاء میں سنت وہی ہے جو عیدین کی نماز کی سنت ہے، اور یہ کہ وہ اسے عیدین کی طرح عید کی نماز کے وقت اذان اور اقامت کے بغیر دو رکعت پڑھے گا
حدیث نمبر: 6406
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْخَالِقِ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ السُّنَّةِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ:" مِثْلُ السُّنَّةِ فِي الْعِيدَيْنِ، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، وَكَبَّرَ فِيهِمَا ثِنْتَيْ عَشْرَةَ تَكْبِيرَةً: سَبْعًا فِي الْأُولَى، وَخَمْسًا فِي الْآخِرَةِ، وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَخَطَبَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ اسْتَسْقَى". مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ هَذَا غَيْرُ قَوِيٍّ، وَهُوَ بِمَا قَبْلَهُ مِنَ الشَّوَاهِدِ يَقْوَى.
طلحہ بن عبداللہ بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صلوٰۃ الاستسقاء کا طریقہ پوچھا تو انہوں نے کہا: ”عید کے طریقے کی طرح ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے بارش طلب کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائیں بغیر اذان و اقامت کے اور ان میں بارہ (12) تکبیرات کہیں، سات پہلی میں اور پانچ دوسری میں اور جہری قرأت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے اور خطبہ دیا۔ پھر قبلے کی طرف منہ کیا اپنی چادر کو پلٹا اور بارش کی دعا کی۔“
یہ محمد بن عبدالعزیز قوی نہیں ہے، اور یہ اپنے سے پہلے والے شواہد کی وجہ سے قوی ہو جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6406]
یہ محمد بن عبدالعزیز قوی نہیں ہے، اور یہ اپنے سے پہلے والے شواہد کی وجہ سے قوی ہو جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6406]
تخریج الحدیث: «منكر۔ دار قطني»
الحكم على الحديث: منكر
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6406 in Urdu