السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1306. -- باب: الدليل على أن السنة في صلاة الاستسقاء السنة في صلاة العيدين، وأنه يصليها ركعتين كما يصلي في العيدين بلا أذان ولا إقامة في وقت صلاة العيد
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ نمازِ استسقاء میں سنت وہی ہے جو عیدین کی نماز کی سنت ہے، اور یہ کہ وہ اسے عیدین کی طرح عید کی نماز کے وقت اذان اور اقامت کے بغیر دو رکعت پڑھے گا
حدیث نمبر: 6399
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، جَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ فِيهِمَا، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، وَاسْتَسْقَى، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ". زَادَ غَيْرُهُ فِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ:" وَرَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو، فَدَعَا وَاسْتَسْقَى".
عباد بن تمیم اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ پانی طلب کرنے کے لیے نکلے، سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں بلند آواز میں قرات کی اور اپنی چادر کو پلٹایا اور پانی مانگا اور قبلے کی طرف منہ کیا، اس کے علاوہ نے اضافہ کیا ہے اور وہ عبد الرزاق سے بیان کرتے ہیں کہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھاتے ہوئے دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے پانی طلب کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6399]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ومسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6400
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِ.
ہمیں حدیث بیان کی عبدالرزاق نے اور انہوں نے اس حدیث کا تذکرہ کچھ زیادتی (اضافے) کے ساتھ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6400]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6401
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ هُوَ ابْنُ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَنَا، فَدَعَا اللهَ، وَحَوَّلَ وَجْهَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ، ثُمَّ قَلْبَ رِدَاءَهُ، فَجَعَلَ الْأَيْمَنَ عَلَى الْأَيْسَرِ وَالْأَيْسَرَ عَلَى الْأَيْمَنِ". تَفَرَّدَ بِهِ النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم (بارش) پانی طلب کرنے کے لیے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان اور اقامت کے بغیر دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر ہمیں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اپنے چہرے کو قبلے کی طرف پھیرا اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے، پھر اپنی چادر کو پلٹایا اور دائیں جانب کو بائیں طرف کر لیا اور بائیں جانب کو دائیں طرف۔
اسے زہری سے روایت کرنے میں نعمان بن راشد منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6401]
اسے زہری سے روایت کرنے میں نعمان بن راشد منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6401]
تخریج الحدیث: «سنده منكر۔ ابن ماجه»
الحكم على الحديث: سنده منكر
حدیث نمبر: 6402
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا هِشَامُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كِنَانَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ قَالَ: أَرْسَلَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّا تَمَارَيْنَا فِي الْمَسْجِدِ فِي صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَرْسَلَكَ ابْنُ أَخِيكَ، وَلَوْ أَنَّهُ أَرْسَلَ فَسَأَلَ، مَا كَانَ بِذَاكَ بَأْسٌ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا، مُتَوَاضِعًا، مُتَضَرِّعًا، حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمْ يَخْطُبْ كَخُطْبَتِكُمْ هَذِهِ، وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ، وَالتَّضَرُّعِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي فِي الْعِيدِ". لَفْظُ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى، وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: الصَّوَابُ ابْنُ عُتْبَةَ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا الْحَدِيثُ يُوهِمُ أَنَّ دُعَاءَهُ كَانَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ.
ہمیں ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے اس شخص سے سنا جو وہ حدیث بیان کرتے ہیں اور انہوں نے کہا کہ مجھے ولید بن عقبہ نے بھیجا (جو ان دنوں مدینہ کے امیر تھے) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف تاکہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی «صَلَاةُ الِاسْتِسْقَاءِ» ”نمازِ استسقاء“ کا طریقہ پوچھوں، سو میں ان کے پاس آیا تو میں نے کہا: ہم مسجد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ استسقاء کے بارے میں جھگڑ پڑے ہیں، تو انہوں نے کہا: ”نہیں بلکہ تمہیں تمہارے بھانجے نے بھیجا ہے، اگر اس نے بھیجا ہے تو اس نے ایسی بات کا سوال کیا ہے جس میں کوئی جھگڑا نہیں۔“ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم معمولی لباس زیب تن کیے ہوئے، عاجزی و انکساری کرتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور تمہارے اس خطبے کی طرح خطبہ نہیں دیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے رہے، گڑگڑاتے رہے، اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرتے رہے اور دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔“
یہ الفاظ ابراہیم بن موسیٰ کی حدیث کے ہیں اور جو یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث ہے وہ بھی انہی معانی کے ساتھ بیان ہوئی ہے، مگر انہوں نے ولید بن عتبہ کہا۔ ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ نے کہا: درست ابن عتبہ ہے۔
شیخ رحمہ اللہ نے کہا ہے: یہ حدیث یہ وہم پیدا کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا نماز سے پہلے تھی اور اسے سفیان ثوری رحمہ اللہ نے بھی بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6402]
یہ الفاظ ابراہیم بن موسیٰ کی حدیث کے ہیں اور جو یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث ہے وہ بھی انہی معانی کے ساتھ بیان ہوئی ہے، مگر انہوں نے ولید بن عتبہ کہا۔ ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ نے کہا: درست ابن عتبہ ہے۔
شیخ رحمہ اللہ نے کہا ہے: یہ حدیث یہ وہم پیدا کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا نماز سے پہلے تھی اور اسے سفیان ثوری رحمہ اللہ نے بھی بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6402]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن خزيمه»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 6403
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: مَنْ أَرْسَلَكَ؟ قُلْتُ: فُلَانٌ قَالَ: مَا مَنَعَهُ أَنْ يَأْتِيَنِي فَيَسْأَلَنِي؟" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا، مُتَضَرِّعًا، مُتَذَلِّلًا، فَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ". قَالَ سُفْيَانُ: قُلْتُ لِلشَّيْخِ: الْخُطْبَةُ قَبْلَ الرَّكْعَتَيْنِ أَوْ بَعْدَهَا قَالَ: لَا أَدْرِي. فَهَذَا يَدُلُّ ⦗٤٨٥⦘ عَلَى أَنَّ هِشَامًا كَانَ لَا يَحْفَظُهُ، وَقَدْ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامٍ عَنْ جَدِّهِ مُحَالًا بِهَا عَلَى صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ.
ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد کہتے ہیں: امیروں میں سے ایک امیر نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا تاکہ صلاۃ الاستسقاء کے متعلق ان سے پوچھوں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تجھے کس نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا: فلاں نے، تو انہوں نے کہا: اسے کس نے روکا ہے کہ وہ میرے پاس آئے اور پوچھے؟ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عاجزی کرتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے اس خطبے کی طرح خطبہ نہ دیا اور دو رکعتیں پڑھائیں، جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے شیخ سے کہا: خطبہ دو رکعتوں سے پہلے یا بعد میں؟ تو انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ سو یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ہشام یاد نہیں رکھ سکتے تھے اور تحقیق اسے بیان کیا ہے اسماعیل بن ربیعہ بن ہشام نے اپنے دادا سے عیدین کی نماز پر محمول کرتے ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6403]
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے شیخ سے کہا: خطبہ دو رکعتوں سے پہلے یا بعد میں؟ تو انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ سو یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ہشام یاد نہیں رکھ سکتے تھے اور تحقیق اسے بیان کیا ہے اسماعیل بن ربیعہ بن ہشام نے اپنے دادا سے عیدین کی نماز پر محمول کرتے ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6403]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن خزيمه»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 6404
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ السُّكَّرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ جَدِّهِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَسْقَى مُتَخَشِّعًا مُتَذَلِّلًا، كَمَا يَصْنَعُ فِي الْعِيدَيْنِ". وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَبِيعَةَ بِمَعْنَاهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے جب بارش طلب کی، خشوع و خضوع اور انکساری کرتے ہوئے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں کرتے رہے، اس کو عبداللہ بن یوسف تنیسی رحمہ اللہ نے اسماعیل بن ربیعہ رحمہ اللہ سے اسی معنیٰ میں روایت کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6404]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن خزيمه»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 6405
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ قَالَ: أَرْسَلَنِي مَرْوَانُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ سُنَّةِ الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ:" سُنَّةُ الِاسْتِسْقَاءِ سَنَةُ الصَّلَاةِ فِي الْعِيدَيْنِ، إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَبُ رِدَاءَهُ، فَجَعَلَ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ وَيَسَارَهُ عَلَى يَمِينِهِ، وَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، فَكَبَّرَ فِي الْأُولَى بِسَبْعِ تَكْبِيرَاتٍ، وَقَرَأَ بِـ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَقَرَأَ فِي الثَّانِيَةِ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، وَكَبَّرَ فِيهَا خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ".
حضرت طلحہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے مروان نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا تاکہ میں ان سے استسقاء کا طریقہ پوچھوں تو انہوں نے کہا کہ صلاۃِ استسقاء کا طریقہ وہی ہے جو صلاۃِ عیدین کا ہے سوا اس کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کو پلٹایا (پھیرا) اور دائیں جانب کو بائیں جانب اور بائیں جانب کو دائیں جانب کیا اور دو رکعتیں پڑھیں۔ پہلی رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات تکبیرات کہیں اور سورہ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] پڑھی اور دوسری رکعت میں ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ [سورة الغاشية: 1] پڑھی اور اس میں پانچ تکبیرات کہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6405]
تخریج الحدیث: «منكر۔ الحاكم»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 6406
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْخَالِقِ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ السُّنَّةِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ:" مِثْلُ السُّنَّةِ فِي الْعِيدَيْنِ، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، وَكَبَّرَ فِيهِمَا ثِنْتَيْ عَشْرَةَ تَكْبِيرَةً: سَبْعًا فِي الْأُولَى، وَخَمْسًا فِي الْآخِرَةِ، وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَخَطَبَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ اسْتَسْقَى". مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ هَذَا غَيْرُ قَوِيٍّ، وَهُوَ بِمَا قَبْلَهُ مِنَ الشَّوَاهِدِ يَقْوَى.
طلحہ بن عبداللہ بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صلوٰۃ الاستسقاء کا طریقہ پوچھا تو انہوں نے کہا: ”عید کے طریقے کی طرح ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے بارش طلب کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائیں بغیر اذان و اقامت کے اور ان میں بارہ (12) تکبیرات کہیں، سات پہلی میں اور پانچ دوسری میں اور جہری قرأت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے اور خطبہ دیا۔ پھر قبلے کی طرف منہ کیا اپنی چادر کو پلٹا اور بارش کی دعا کی۔“
یہ محمد بن عبدالعزیز قوی نہیں ہے، اور یہ اپنے سے پہلے والے شواہد کی وجہ سے قوی ہو جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6406]
یہ محمد بن عبدالعزیز قوی نہیں ہے، اور یہ اپنے سے پہلے والے شواہد کی وجہ سے قوی ہو جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6406]
تخریج الحدیث: «منكر۔ دار قطني»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 6407
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي: أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ: خَرَجَ يَسْتَسْقِي بِالنَّاسِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اسْتَسْقَى، فَلَقِيتُ يَوْمَئِذٍ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ غَيْرُ رَجُلٍ أَوْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ رَجُلٌ، قُلْتُ: كَمْ غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" ⦗٤٨٦⦘ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً"، قُلْتُ: كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ؟ قَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ، قُلْتُ: فَمَا أَوَّلُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا؟ قَالَ: ذَاتُ الْعُسَيْرَةِ أَوْ ذَاتِ الْعُشَيْرَةِ".
ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ بیشک عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہما لوگوں کے ساتھ بارش کی دعا کے لیے نکلے، سو انہوں نے دو رکعتیں پڑھائیں، پھر بارش کی دعا کی اور اس دن میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے ملا، میرے اور ان کے درمیان صرف ایک آدمی تھا یا انہوں نے کہا کہ میرے اور ان کے درمیان ایک آدمی تھا۔ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوات کیے؟ تو انہوں نے کہا: انیس غزوات۔ پھر میں نے کہا: آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنے غزوات کیے؟ تو انہوں نے کہا: سترہ۔ پھر میں نے کہا: پہلا غزوہ کون سا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑا؟ انہوں نے کہا: «ذَاتُ الْعَسِيرَةِ» یا پھر «ذَاتُ الْعُشَيْرَةِ» کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6407]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح