🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1337. -- باب: ما يستدل به على أن المراد بهذا الكفر كفر يباح به دمه، لا كفر يخرج به عن الإيمان بالله ورسوله إذا لم يجحد وجوب الصلاة
-- باب: اس دلیل کا بیان جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کفر سے مراد وہ کفر ہے جس سے اس کا خون مباح ہو جاتا ہے، نہ کہ وہ کفر جو اسے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے خارج کر دے، بشرطیکہ وہ نماز کے فرض ہونے کا انکار نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6502
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُهُ أَنْ يُسَارَّهُ، فَأَذِنَ لَهُ فَسَارَّهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ يَسْتَأْذِنُهُ فِيهِ، فَجَهَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلَامِهِ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ"؟ قَالَ: بَلَى، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ:" أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ"؟ قَالَ: بَلَى، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ:" أَلَيْسَ يُصَلِّي؟"، قَالَ: بَلَى، وَلَا صَلَاةَ لَهُ، قَالَ:" أُولَئِكَ الَّذِينَ نُهِيتُ عَنْ قَتْلِهِمْ". لَفْظُ حَدِيثِ الْقَطَّانِ.
سیدنا عبداللہ بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ لوگوں کے سامنے تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور سرگوشی کے لیے اجازت طلب کرنے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، اس نے منافقین میں سے ایک آدمی کے قتل کے بارے میں سرگوشی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آواز کو اونچا کیا اور فرمایا: ”کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں، مگر اس کا اقرار اقرار نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ اقرار نہیں کرتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اس کا کوئی اقرار نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اس کی نماز نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی تو ہیں وہ لوگ جن کے قتل سے میں منع کرتا ہوں۔“ یہ قطان کی حدیث کے لفظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6502]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6502 in Urdu