السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1337. -- باب: ما يستدل به على أن المراد بهذا الكفر كفر يباح به دمه، لا كفر يخرج به عن الإيمان بالله ورسوله إذا لم يجحد وجوب الصلاة
-- باب: اس دلیل کا بیان جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کفر سے مراد وہ کفر ہے جس سے اس کا خون مباح ہو جاتا ہے، نہ کہ وہ کفر جو اسے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے خارج کر دے، بشرطیکہ وہ نماز کے فرض ہونے کا انکار نہ کرے
حدیث نمبر: 6503
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ⦗٥١٣⦘ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ، أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ تَعْرِفُونَ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ، قَالَ سُلَيْمَانُ: قَالَ هِشَامٌ:" بِقَلْبِهِ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ، لَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ". فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ: أَوَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ فَقَالَ:" لَا، مَا صَلَّوْا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب تم پر ائمہ مقرر کیے جائیں گے، تم ان کی کچھ باتوں کو اچھا جانو گے اور کچھ کا انکار کرو گے، تو جس نے انکار کیا“
سلیمان کہتے ہیں: ہشام نے کہا: ”(یعنی) اپنے دل سے (انکار کیا) تو وہ بری ہو گیا اور جس نے ناپسند کیا تو وہ محفوظ ہو گیا، لیکن (قابلِ مؤاخذہ) وہ شخص ہے جو اس پر خوش ہوا اور تابعداری کی۔“ تو کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ نماز پڑھیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6503]
سلیمان کہتے ہیں: ہشام نے کہا: ”(یعنی) اپنے دل سے (انکار کیا) تو وہ بری ہو گیا اور جس نے ناپسند کیا تو وہ محفوظ ہو گیا، لیکن (قابلِ مؤاخذہ) وہ شخص ہے جو اس پر خوش ہوا اور تابعداری کی۔“ تو کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ نماز پڑھیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6503]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6503 in Urdu