السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1359. -- باب: ما يستحب من توجيهه نحو القبلة
-- باب: میت کو قبلہ رخ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6604
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ سَأَلَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، فَقَالُوا: تُوُفِّيَ، وَأَوْصَى بِثُلُثِهِ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَوْصَى أَنْ يُوَجَّهَ إِلَى الْقِبْلَةِ لَمَّا احْتُضِرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَابَ الْفِطْرَةَ، وَقَدْ رَدَدْتُ ثُلُثَهُ عَلَى وَلَدِهِ" ثُمَّ ذَهَبَ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَقَالَ:" اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَأَدْخِلْهُ جَنَّتَكَ، وَقَدْ فَعَلْتَ".
سیدنا عبداللہ بن ابو قتادہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے براء بن معرور رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ فوت ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تہائی مال کی وصیت کی ہے اور یہ بھی وصیت کی کہ جب مجھے موت آئے تو میرے چہرے کو قبلے کی طرف کر دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے فطرت کو پایا ہے اور میں نے اس کا تہائی حصہ اس کی اولاد کو لوٹا دیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گئے، اس کی نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا: «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَأَدْخِلْهُ جَنَّتَكَ، وَقَدْ فَعَلْتَ» ”اے اللہ! اسے بخش دے اور اس پر رحمت کر اور اسے اپنی جنت میں داخل فرما جو تو نے کر دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6604]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6604 in Urdu