السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1364. -- باب: وجوب العمل في الجنائز من الغسل والتكفين والصلاة والدفن حتى يقوم بذلك من فيه الكفاية
-- باب: جنازوں کے معاملات مثلاً غسل، کفن، نماز اور دفن میں عمل کرنے کے وجوب کا بیان یہاں تک کہ اتنے لوگ یہ کام انجام دے لیں جو کافی ہوں (فرضِ کفایہ کا بیان)
حدیث نمبر: 6617
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ، فَمَا رَأَيْتُهُ مَرَّ بِجِيفَةِ إِنْسَانٍ إِلَّا أَمَرَ بِدَفْنِهِ، لَا يَسْأَلُ أَمُسْلِمٌ هُوَ أَمْ كَافِرٌ؟"..
عمر بن یعلیٰ بن مرہ اپنے والد سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی مرتبہ سفر کیا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی انسان کی میت کے پاس سے گزرے ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دفن کا حکم نہ دیا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی نہیں پوچھتے تھے کہ یہ مسلم ہے یا کافر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6617]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ أخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6617 in Urdu