السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1385. -- باب: الدليل على جواز التكفين في ثوب واحد
-- باب: ایک کپڑے میں کفن دینے کے جواز کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 6683
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أُتِيَ بِطَعَامٍ وَكَانَ صَائِمًا، فَقَالَ:" قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي وَكُفِّنَ فِي بُرْدَةٍ، إِنْ غُطِّيَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ، وَإِنْ غُطِّيَ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ، قَالَ: وَأَرَاهُ قَالَ: وَقُتِلَ حَمْزَةُ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي، ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْيَا، أَوْ قَالَ: أُعْطِينَا مِنَ الدُّنْيَا مَا أُعْطِينَا، وَقَدْ خَشِينَا أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا، وَجَعَلَ يَبْكِي حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ وَغَيْرِهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ.
سعد بن ابراہیم اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا لایا گیا اور وہ روزے سے تھے تو انہوں نے کہا: مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے اور انہیں ایسی چادر میں کفن دیا گیا کہ اگر اس سے سر کو ڈھانپا جاتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر قدم ڈھانپے جاتے تو سر ننگا ہو جاتا۔ میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا: حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے اور وہ بھی مجھ سے بہتر تھے۔ پھر ہمارے لیے دنیا فراخ کر دی گئی یا انہوں نے کہا: ہمیں دنیا دی گئی جس قدر دی گئی اور ہمیں ڈر ہونے لگا کہ ہماری بھلائیاں ہمارے لیے جلد عطا کر دی گئی ہیں اور وہ رونا شروع ہو گئے۔ یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6683]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6683 in Urdu