السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1385. -- باب: الدليل على جواز التكفين في ثوب واحد
-- باب: ایک کپڑے میں کفن دینے کے جواز کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 6684
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ: أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ:" لَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ جَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاحِيَةً وَجَاءَتِ امْرَأَةٌ تَؤُمُّ الْقَتْلَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَرْأَةَ الْمَرْأَةَ" فَلَمَّا تَوَسَّمْتُهَا فَإِذَا هِيَ أُمِّي صَفِيَّةُ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّهْ، ارْجِعِي، فَلَدَمَتْ فِي صَدْرِي وَقَالَتْ: لَا أَرْضَ لَكَ، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْزِمُ عَلَيْكِ قَالَ: فَأَعْطَتْنِي ثَوْبَيْنِ، فَقَالَتْ: كَفِّنُوا فِي هَذَيْنِ أَخِي، قَالَ: فَوَجَدْنَا إِلَى جَنْبِ حَمْزَةَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ لَيْسَ لَهُ كَفَنٌ، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا غَضَاضَةً أَنْ نُكَفِّنَ حَمْزَةَ فِي ثَوْبَيْنِ وَالْأَنْصَارِيُّ إِلَى جَنْبِهِ لَيْسَ لَهُ كَفَنٌ، قَالَ: فَأَقْرَعْنَا بَيْنَهُمَا فِي أَجْوَدِ الثَّوْبَيْنِ فَكَفَّنَّا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي الثَّوْبِ الَّذِي طَارَ لَهُ".
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ احد کے دن جب مشرک واپس پلٹے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جانب بیٹھ گئے۔ اسی اثناء میں ایک عورت آئی جو مقتولین کا جائزہ لے رہی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت! عورت!“ جب میں نے اسے پرکھا تو وہ میری والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں، میں نے کہا: ”امی جان! واپس چلی جائیں۔“ تو انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا: «لَا أَرْضَ لَكَ» ”تیرے لیے زمین نہ ہو۔“ میں نے کہا: ”پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ (کو واپس جانے) کا عزم کرتے ہیں۔“ وہ کہتے ہیں، پھر انہوں نے مجھے دو کپڑے دیے اور کہا کہ میرے بھائی کو ان میں کفن دو۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کی میت کو دیکھا جس پر کفن نہیں تھا تو ہم نے اپنے دل میں کچھ پریشانی و اضطراب پایا کہ ہم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو تو دو کپڑوں میں کفن دیں اور ان کے پہلو میں موجود انصاری پر کفن نہ ہو۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے ان دونوں میں سے بہتر کپڑے کے لیے ان دونوں کے درمیان قرعہ ڈالا، پھر ہم نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو اس کپڑے میں کفن دیا جو اس کے حصے میں آیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6684]
تخریج الحدیث: «جيد۔ أخرجه احمد»
الحكم على الحديث: جيد
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6684 in Urdu