السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1435. -- باب: حجة من زعم أن القيام للجنازة منسوخ
-- باب: اس شخص کی دلیل کا بیان جس کا خیال ہے کہ جنازے کے لیے کھڑا ہونا منسوخ ہے
حدیث نمبر: 6892
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، تَحَدَّثَ أَنَّ الْقَاسِمَ: كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيِ الْجِنَازَةِ وَيَجْلِسُ قَبْلَ أَنْ تُوضَعَ، وَلَا يَقُومُ لَهَا وَكَانَ يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُومُونَ لَهَا إِذَا رَأَوْهَا وَيَقُولُونَ فِي أَهْلِكِ مَا أَنْتِ فِي أَهْلِكِ مَا أَنْتِ".
عبد الرحمن بن قاسم فرماتے ہیں کہ قاسم جنازے کے آگے چلا کرتے تھے اور اس کے رکھنے سے پہلے بیٹھ جاتے تھے اور اس کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتی تھیں کہ دورِ جاہلیت میں لوگ اس کے لیے کھڑے ہوا کرتے تھے جب اسے دیکھتے اور کہتے: ”تو اپنے اہل میں نہیں رہا، تو اپنے اہل میں نہیں رہا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6892]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6892 in Urdu