السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1472. -- باب: ما يقال إذا أدخل الميت قبره
-- باب: جب میت کو اس کی قبر میں اتارا جائے تو جو کلمات کہے جائیں گے ان کا بیان
حدیث نمبر: 7061
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا إِدْرِيسُ بْنُ صُبَيْحٍ الْأَوْدِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: حَضَرْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ فِي جِنَازَةٍ ⦗٩٢⦘ فَلَمَّا وَضَعَهَا فِي اللَّحْدِ قَالَ:" بِسْمِ اللهِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَلَمَّا أَخَذَ فِي تَسْوِيَةِ اللَّبِنِ عَلَى اللَّحْدِ قَالَ:" اللهُمَّ أَجِرْهَا مِنَ الشَّيْطَانِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ"، فَلَمَّا سَوَّى الْكَثِيبَ عَلَيْهَا قَامَ جَانِبَ الْقَبْرِ ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ جَافِ الْأَرْضَ عَنْ جُثَّتِهَا وَصَعِّدْ بِرُوحِهَا وَلَقِّهَا مِنْكَ رِضْوَانًا"، فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْ شَيْءٌ قُلْتَهُ مِنْ رَأْيِكَ؟ قَالَ:" إِنِّي إِذًا لَقَادِرٌ عَلَى الْقَوْلِ بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَكَذَا قَالَ إِدْرِيسُ بْنُ صُبَيْحٍ الْأَوْدِيُّ وَإِنَّمَا هُوَ إِدْرِيسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ، وَلَا أَعْلَمُ أَحَدًا يَرْوِيهِ غَيْرَ حَمَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا، وَهُوَ قَلِيلُ الرِّوَايَةِ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک جنازے میں حاضر ہوا، جب اسے لحد میں رکھا گیا تو انہوں نے فرمایا: «بِسْمِ اللهِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ، اور اللہ کی راہ میں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر“ اور جب لحد پر اینٹیں نصب کرنا شروع کیں تو فرمایا: «اللّٰهُمَّ أَجِرْهَا مِنَ الشَّيْطَانِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ» ”اے اللہ! اسے شیطان سے، قبر کے عذاب سے اور آگ کے عذاب سے پناہ دے“ اور جب اس پر مٹی برابر کی تو قبر کی ایک طرف کھڑے ہو کر فرمایا: «اللّٰهُمَّ جَافِ الْأَرْضَ عَنْ جُثَّتِهَا، وَصَعِّدْ بِرُوحِهَا، وَلَقِّهَا مِنْكَ رِضْوَانًا» ”اے اللہ! زمین کو اس کے جسم سے دور کر اور اس کی روح کو بلند کر اور اس کو اپنی رضا عطا کر۔“ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ نے ایسی کوئی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سنی ہے یا نہیں یا اپنی رائے سے یہ کہا ہے؟ انہوں نے فرمایا: تب تو میں جو چاہتا کہہ سکتا تھا، یہ بات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی سنی ہے۔
ابو احمد (ابن عدی) نے کہا: (سند میں) اسی طرح ادریس بن صبیح اودی کہا گیا ہے، حالانکہ وہ ادریس بن یزید اودی ہیں، اور میں اس حماد بن عبدالرحمن کے سوا کسی کو نہیں جانتا جو اسے روایت کرتا ہو، اور وہ قلیل الروایہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7061]
ابو احمد (ابن عدی) نے کہا: (سند میں) اسی طرح ادریس بن صبیح اودی کہا گیا ہے، حالانکہ وہ ادریس بن یزید اودی ہیں، اور میں اس حماد بن عبدالرحمن کے سوا کسی کو نہیں جانتا جو اسے روایت کرتا ہو، اور وہ قلیل الروایہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7061]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه ابن ماجه»
الحكم على الحديث: منكر
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7061 in Urdu