السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1490. -- جماع أبواب البكاء على الميت
-- میت پر رونے کے ابواب کا مجموعہ
حدیث نمبر: 7105
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا تُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا" وَنَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ فَقَبَضَتِ امْرَأَةٌ يَدَهَا فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فُلَانَةً أَسْعَدَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَجْزِيَهَا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا فَذَهَبَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ يَعْنِي فَبَايَعَهَا قَالَتْ: فَمَا وَفَّتْ مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا أُمُّ سُلَيْمٍ، وَأُمُّ الْعَلَاءِ، وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةُ مُعَاذٍ أَوِ ابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ، وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ. ⦗١٠٣⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ هَكَذَا وَلَيْسَ فِيهِ أَنَّهُ اسْتَثْنَى لَهَا مَا أَرَادَتْ بَلْ فِيهِ أَنَّهُ لَمْ يُجِبْهَا إِلَى ذَلِكَ حَتَّى رَجَعَتْ فَبَايَعَهَا.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا» “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع کیا تو ایک عورت نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں عورت نے میرے ساتھ بھلائی کی سو میں اسے بدلہ دینا چاہتی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ بھی نہ کہا، وہ چلی گئی، پھر وہ واپس آئی اور بیعت کی۔ فرماتی ہیں: ہم میں سے ام سلیم رضی اللہ عنہا، ام علاء رضی اللہ عنہا اور ابی سبرہ کی بیٹی معاذ کی بیوی یا فرمایا: ابی سبرہ کی بیٹی اور معاذ کی بیوی کے سوا کسی عورت نے اس عہد کو پورا نہیں کیا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں مسدد سے اسی طرح نقل کیا ہے، اس میں یہ نہیں کہ اس نے اس کا استثناء کیا جو اس کا ارادہ تھا، بلکہ اس میں یہ ہے کہ انہوں نے جواب نہ دیا حتیٰ کہ واپس پلٹیں اور بیعت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7105]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں مسدد سے اسی طرح نقل کیا ہے، اس میں یہ نہیں کہ اس نے اس کا استثناء کیا جو اس کا ارادہ تھا، بلکہ اس میں یہ ہے کہ انہوں نے جواب نہ دیا حتیٰ کہ واپس پلٹیں اور بیعت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7105]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7105 in Urdu