السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1490. -- جماع أبواب البكاء على الميت
-- میت پر رونے کے ابواب کا مجموعہ
حدیث نمبر: 7106
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا عَاصِمٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ {إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا} [الممتحنة: ١٢] إِلَى قَوْلِهِ {وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} [الممتحنة: ١٢] قَالَتْ: مِنْهَا النِّيَاحَةُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ: إِلَّا بَنِي فُلَانٍ؛ فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا بُدَّ مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ فَقَالَ:" إِلَّا بَنِي فُلَانٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ. كَذَلِكَ رَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلُ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ. وَلَا أَدْرِي هَلْ حَفِظَ مَا رُوِيَ فِيهِ مِنَ الْإِذْنِ فِي الْإِسْعَادِ أَمْ لَا. فَقَدْ رَوَاهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَهُوَ أَحْفَظُ مِنْهُ عَلَى مَا ذَكَرْنَا وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَةَ فَلَمْ يَذْكُرْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب یہ آیت ﴿یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤی اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْـًٔا﴾ سے لے کر ﴿وَلَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ﴾ [سورة الممتحنة: 12] تک نازل ہوئی تو فرماتی ہیں: ان (شرائط) میں سے نوحہ (نہ کرنا) بھی تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مگر فلاں کی اولاد کے لیے! انہوں نے دورِ جاہلیت میں میرے ساتھ نیکی کی، سو ان سے بھلائی کیے بغیر مجھے کوئی چارہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوائے فلاں کی اولاد کے لیے۔“
اسی طرح اسے عاصم بن سلیمان احول نے حفصہ بنت سیرین سے روایت کیا ہے، اور میں نہیں جانتا کہ اس میں جو اسعاد (نوحے میں ساتھ دینے) کی اجازت مروی ہے، اسے انہوں نے صحیح یاد رکھا ہے یا نہیں، کیونکہ ایوب سختیانی نے، جو ان سے زیادہ حافظ ہیں، اسے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ہم نے ذکر کیا، اور ہشام بن حسان نے اسے حفصہ سے روایت کیا تو اس میں سے کچھ بھی ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7106]
اسی طرح اسے عاصم بن سلیمان احول نے حفصہ بنت سیرین سے روایت کیا ہے، اور میں نہیں جانتا کہ اس میں جو اسعاد (نوحے میں ساتھ دینے) کی اجازت مروی ہے، اسے انہوں نے صحیح یاد رکھا ہے یا نہیں، کیونکہ ایوب سختیانی نے، جو ان سے زیادہ حافظ ہیں، اسے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ہم نے ذکر کیا، اور ہشام بن حسان نے اسے حفصہ سے روایت کیا تو اس میں سے کچھ بھی ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7106]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7106 in Urdu