السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1497. -- باب: من رخص في البكاء إلى أن يموت الذي يبكى عليه
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے جس پر رویا جا رہا ہے اس کی موت واقع ہونے تک رونے کی رخصت دی ہے
حدیث نمبر: 7155
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَسَمِعَ نِسَاءَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ يَبْكِينَ عَلَى هَلْكَاهُنَّ فَقَالَ:" لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بَوَاكِيَ لَهُ" فَجِئْنَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ فَبَكَيْنَ عَلَى حَمْزَةَ عِنْدَهُ وَرَقَدَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُنَّ يَبْكِينَ فَقَالَ:" وَيْحَهُنَّ إِنَّهُنَّ لَهَاهُنَا حَتَّى الْآنَ مُرُوهُنَّ فَلْيَرْجِعْنَ وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ". وَقَوْلُهُ:" وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ" إِنْ أَرَادَ بِهِ الْعُمُومَ كَانَ كَقَوْلِهِ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَتِيكٍ:" فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ" وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ عَلَى هَالِكٍ مِنْ شُهَدَاءِ أُحُدٍ فَكَأَنَّهُ قَالَ حَسْبُكُنَّ مَا بَكَيتُنَّ عَلَيْهِمْ، وَقَدْ وَرَدَتِ الرُّخْصَةُ فِي الْبُكَاءِ بَعْدَ الْمَوْتِ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَحُزْنِ الْقَلْبِ فَيَكُونُ حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ مَحْمُولًا عَلَى الِاخْتِيَارِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غزوہ احد سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالاشہل کی عورتوں کو اپنے شہداء پر روتے ہوئے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حمزہ رضی اللہ عنہ پر تو کوئی رونے والا نہیں“، پھر انصاری عورتیں آئیں اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونا شروع کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، پھر بیدار ہوئے اور وہ ابھی رو رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان پر افسوس ہے، یہ ابھی تک رو رہی ہیں، ان سے کہو کہ چلی جائیں اور آج کے بعد کسی مرنے والے پر نہ روئیں۔“
«وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ» ”اور وہ آج کے بعد کسی مرنے والے پر نہ روئیں۔“ اگر اس سے عموم مراد ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے سیدنا ابن عتیک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جب وہ واجب ہوجائے تو کوئی رونے والی نہ روئے۔ اس سے یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد شہدائے احد ہوں، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم نے ان پر رو لیا وہ کافی ہے“ اور موت کے بعد آنکھ کے آنسوؤں اور دل کے غم کے ساتھ رونے کی رخصت وارد ہوئی ہے، لہٰذا سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ کی حدیث کو افضل اور پسندیدہ عمل پر محمول کیا جائے گا، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7155]
«وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ» ”اور وہ آج کے بعد کسی مرنے والے پر نہ روئیں۔“ اگر اس سے عموم مراد ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے سیدنا ابن عتیک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جب وہ واجب ہوجائے تو کوئی رونے والی نہ روئے۔ اس سے یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد شہدائے احد ہوں، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم نے ان پر رو لیا وہ کافی ہے“ اور موت کے بعد آنکھ کے آنسوؤں اور دل کے غم کے ساتھ رونے کی رخصت وارد ہوئی ہے، لہٰذا سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ کی حدیث کو افضل اور پسندیدہ عمل پر محمول کیا جائے گا، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7155]
تخریج الحدیث: «منكر۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: منكر
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7155 in Urdu