السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1585. -- باب: سياق أخبار وردت في زكاة الحلي.
-- باب: ان احادیث کا سیاق جو زیورات کی زکوٰۃ کے متعلق وارد ہوئی ہیں۔
حدیث نمبر: 7549
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْمَعْنِيُّ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُمْ، ثنا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسْكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهَا:" أَتُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا؟" قَالَتْ: لَا قَالَ:" أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللهُ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ" قَالَ: فَخَطَفَتْهُمَا فَأَلْقَتْهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ: هُمَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ. وَهَذَا يَتَفَرَّدُ بِهِ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی اور اس کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے کڑے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے کہا: ”کیا تو ان کی زکاۃ ادا کرتی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو پسند کرتی ہے کہ تجھے ان کے بدلے قیامت کے دن آگ کے کڑے پہنائے جائیں؟“ راوی کہتا ہے: اس نے وہ دونوں کڑے جلدی سے کھینچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیے اور کہا: یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں۔
اس روایت کو بیان کرنے میں عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7549]
اس روایت کو بیان کرنے میں عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7549]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه النسائي»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7549 in Urdu