السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1585. -- باب: سياق أخبار وردت في زكاة الحلي.
-- باب: ان احادیث کا سیاق جو زیورات کی زکوٰۃ کے متعلق وارد ہوئی ہیں۔
حدیث نمبر: 7550
وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَنْزٌ هُوَ؟ قَالَ:" مَا بَلَغَ أَنْ تُؤَدِّيَ زَكَاتَهُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا عَتَّابٌ عَنْ ثَابِتٍ فَذَكَرَهُ، وَهَذَا يَتَفَرَّدُ بِهِ ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سونے کا ہار پہنا کرتی تھی، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ کنز ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مال اس مقدار کو پہنچ جائے کہ اس کی زکاۃ ادا کی جائے اور اس کی زکاۃ دے دی جائے تو وہ کنز نہیں ہے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں ثابت بن عجلان منفرد ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7550]
اس روایت کو بیان کرنے میں ثابت بن عجلان منفرد ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7550]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7550 in Urdu