🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
169. جماع أبواب ما يوجب الغسل -- باب: وجوب الغسل بالتقاء الختانين
غسل کو واجب کرنے والے امور کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: شرمگاہوں کے ملنے سے غسل واجب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 767
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا فَذَكَرُوا مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ، زَادَ أَبُو مُوسَى فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ مَنْ حَضَرَهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ:" إِذَا مَسَّ الْخَتَانُ الْخَتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ" وَقَالَ مَنْ حَضَرَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ:" لَا، حَتَّى يَدْفُقَ" ثُمَّ اتَّفَقَا فِي الْمَعْنَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَنَا آتِي بِالْخَبَرِ، فَقَامَ إِلَى عَائِشَةَ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَأَنَا أَسْتَحْيِيكِ، فَقَالَتْ: لَا تَسْتَحِ أَنْ تَسْأَلَنِي عَنْ شَيْءٍ كُنْتَ سَائِلًا عَنْهُ أُمَّكَ الَّتِي وَلَدَتْكَ، إِنَّمَا أَنَا أُمُّكَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ قَالَتْ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ، وَمَسَّ الْخَتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ" لَفْظُ حَدِيثِ السُّلَمِيِّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنِ الْأَنْصَارِيِّ. وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا رَفَعَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ الَّتِي أَخْرَجَهَا مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ رِوَايَةٌ صَحِيحَةٌ مُسَنَّدَةٌ.
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے ہوئے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ذکر کیا کہ کس چیز سے غسل واجب ہوتا ہے۔ ابوموسیٰ (محمد بن مثنیٰ، راوی) نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں کہ مہاجرین میں سے کسی نے کہا: جب شرم گاہ، شرم گاہ کو چھو لے تو غسل واجب ہو جاتا ہے اور انصار میں سے ایک نے کہا: نہیں، جب تک کہ منی نہ ٹپکے۔ پھر دونوں روایتیں معنی میں متفق ہیں، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں خبر لے کر آؤں گا، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، سلام کیا پھر عرض کیا: میں کسی چیز کے متعلق آپ سے سوال کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور مجھے شرم آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا: تو سوال کرنے میں شرم نہ کر، تو گویا اپنی اس ماں سے سوال کر رہا ہے جس نے تجھے جنم دیا ہے، میں تیری ماں ہوں۔ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کس چیز سے غسل واجب ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: تو انتہائی باخبر کے پاس آیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی چار گھاٹیوں کے درمیان بیٹھے اور شرم گاہ، شرم گاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔“
یحییٰ بن سعید نے اسے سعید بن مسیب کے واسطے سے ابوموسیٰ سے روایت کیا ہے لیکن اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان نہیں کیا، اسے سعید بن مسیب سے صرف علی بن زید بن جدعان نے مرفوع بیان کیا ہے، اور علی بن زید کی حدیث سے دلیل نہیں لی جاتی۔ اور یہ روایت جو امام مسلم نے صحیح میں نقل کی ہے، صحیح مسند روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 767]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة 227»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 767 in Urdu