السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1640. -- باب: ما يستدل به على أن قوله صلى الله عليه وسلم: " خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى " وقوله حين سئل عن أفضل الصدقة: " جهد من مقل " إنما يختلف باختلاف أحوال الناس في الصبر على الشدة والفاقة والاكتفاء بأقل الكفاية، وبالله التوفيق
-- باب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کا یہ فرمان کہ ”بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی حالت میں ہو“
حدیث نمبر: Q7774
بَابُ مَا يُسْتَدَلُّ بِهِ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى" وَقَوْلَهُ حِينَ سُئِلَ عَنْ أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ:" جَهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ" إِنَّمَا يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ أَحْوَالِ النَّاسِ فِي الصَّبْرِ عَلَى الشِّدَّةِ وَالْفَاقَةِ وَالِاكْتِفَاءِ بِأَقَلِّ الْكِفَايَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
اس دلیل کا باب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو غنا (مالداری) کی حالت میں ہو۔“ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ترین صدقے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تنگدست کا اپنی محنت کی کمائی سے کچھ دینا۔“ (ان دونوں احادیث میں) یہ اختلاف دراصل تنگی اور فاقہ کشی پر صبر کرنے اور کم سے کم ضرورت پر اکتفا کرنے کے حوالے سے لوگوں کے احوال کے مختلف ہونے کی بنا پر ہے، اور اللہ کی توفیق ہی سے سب کچھ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: Q7774]
حدیث نمبر: 7774
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ الْعَدْلُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَنْ نَتَصَدَّقَ، فَوَافَقَ ذَلِكَ مَالًا عِنْدِي، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا، فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ" فَقُلْتُ: مِثْلَهُ، قَالَ: فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ" فَقَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَقُلْتُ: لَا أُسَابِقُكَ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ.
زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں اور وہ دن مجھے ایسا موافق آیا کہ میرے پاس مال تھا تو میں نے کہا: آج میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سبقت لے جاؤں گا، اگر میں کسی دن میں سبقت لے جا سکتا ہوں۔ سو میں اپنا آدھا مال لے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے اہل کے لیے باقی کیا چھوڑا؟“ میں نے کہا: جو دیا اتنا ہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو سارا مال لے آئے، جو ان کے پاس تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنے اہل و عیال کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا ہے۔ تب میں نے کہا: میں کسی چیز میں تجھ سے سبقت نہیں لے جا سکتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7774]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7774 in Urdu