السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1697. -- باب: كفارة من أتى أهله في نهار رمضان وهو صائم
-- باب: اس شخص کے کفارے کا بیان جس نے رمضان کے دن میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کیا۔
حدیث نمبر: 8046
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، حدَّثَنِي الْأُوَيْسِيُّ، حدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي ظِلِّ فَارِعٍ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَيَاضَةَ، فَقَالَ: احْتَرَقْتُ، وَقَعْتُ بِامْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ:" أَعْتِقْ رَقَبَةً" قَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ:" أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، قَالَ: لَيْسَ عِنْدِي، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ فِيهِ عِشْرُونَ صَاعًا، فَقَالَ" تَصَدَّقْ"، فَقَالَ: مَا نَجِدُ عَشَاءً لَيْلَةً، قَالَ:" فَعُدْ بِهِ عَلَى أَهْلِكَ" قَالَ الشَّيْخُ: الزِّيَّادَاتُ الَّتِي فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ تَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ حِفْظِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَمَنْ دُونَهُ لِتِلْكَ الْقِصَّةِ، وَقَوْلُهُ: فِيهِ عِشْرُونَ صَاعًا، بَلَاغٌ بَلَّغَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَدْ رَوَى الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ بِبَعْضٍ مِنْ هَذَا، يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، وَفِي آخِرِهِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: فَحُدِّثْتُ بَعْدُ أَنَّ تِلْكَ الصَّدَقَةَ كَانَتْ عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، وَهُوَ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارع کے سائے میں تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا جو بنو بیاضہ میں سے تھا، کہنے لگا: میں ہلاک ہو گیا کہ رمضان کے مہینے میں بیوی پر واقع ہو گیا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام آزاد کر“، اس نے کہا: میں نہیں پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا“۔ اس نے کہا: میرے پاس نہیں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا، جس میں بیس صاع تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا صدقہ کر“۔ اس نے کہا: ہمارے پاس آج رات کا کھانا نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اپنے اہل پر لوٹا دے“۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں جو زائد باتیں ہیں وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان سے نیچے کے راویوں کے اس قصے کو صحیح یاد رکھنے پر دلالت کرتی ہیں۔ اور یہ کہنا کہ اس میں بیس صاع تھے، ایک بلاغ ہے جو محمد بن جعفر تک پہنچا، محمد بن جعفر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے بیان کیا گیا کہ وہ صدقہ بیس صاع کھجور تھا، جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں پندرہ صاع مروی ہے اور وہی زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8046]
شیخ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں جو زائد باتیں ہیں وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان سے نیچے کے راویوں کے اس قصے کو صحیح یاد رکھنے پر دلالت کرتی ہیں۔ اور یہ کہنا کہ اس میں بیس صاع تھے، ایک بلاغ ہے جو محمد بن جعفر تک پہنچا، محمد بن جعفر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے بیان کیا گیا کہ وہ صدقہ بیس صاع کھجور تھا، جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں پندرہ صاع مروی ہے اور وہی زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8046]
تخریج الحدیث: «حسن۔ البخاري»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8046 in Urdu