السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1698. -- باب: رواية من روى هذا الحديث مقيدة بوقوع وطئه في صوم رمضان وفيها دلالة على أن هذه القصة غير قصة المظاهر، فإن وطء المظاهر وقع ليلا في القمر
-- باب: اس راوی کی روایت کا بیان جس نے اس حدیث کو رمضان کے روزے میں جماع کے وقوع کے ساتھ مقید کیا ہے، اور اس میں اس بات کی دلالت ہے کہ یہ واقعہ ظہار کرنے والے کے واقعے کے علاوہ ہے، کیونکہ ظہار کرنے والے کا جماع رات کے وقت چاندنی میں ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 8047
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلَكْتُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكَ؟" قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟" فَقَالَ: لَا، فَقَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟" قَالَ: لَا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا، خُذْ هَذَا التَّمْرَ فَتَصَدَّقْ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللهِ، فَوَاللهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ، أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”کیا ہوا؟“ اس نے کہا: روزے کی حالت میں میں اپنی بیوی پر واقع ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو غلام رکھتا ہے کہ اسے آزاد کر دے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو دو مہینے کے متواتر روزے رکھنے کی استطاعت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی گنجائش ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا: ”یہ لے لو اور صدقہ کر دے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے زیادہ محتاج کون ہے؟ اللہ کی قسم! ان دونوں پہاڑوں کے درمیان میرے اہل سے زیادہ محتاج کوئی نہیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں اور فرمایا: ”جا اپنے اہل کو کھلا دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8047]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ هذا لفظ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8047 in Urdu