السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
177. -- باب: الكافر يسلم فيغتسل
-- باب: کافر کے اسلام لانے پر غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 806
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ: أَخْبَرَكَ أَبُوكَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أَثَالٍ سَيِّدُ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ" فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ" وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ، وَفِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ الْغُسْلُ قَبْلَ ⦗٢٦٥⦘ الشَّهَادَةِ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَسْلَمَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اغْتَسَلَ وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَاظْهَرَ الشَّهَادَةَ جَمْعًا بَيْنَ الرِّوَايَتَيْنِ.
سعید بن ابوسعید مقبری نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا تو وہ بنو حنیفہ قبیلے سے ایک شخص کو لے آئے جو ثمامہ بن اثال یمامہ کا سردار تھا، صحابہ نے انہیں مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا، اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثمامہ کو چھوڑ دو۔“ تو وہ مسجد کے قریب کھجور کے درخت کی طرف گیا، اس نے غسل کیا پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور بے شک محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔“ اور باقی حدیث ذکر کی۔
(ب) صحیح بخاری میں ہے کہ غسل شہادت سے پہلے ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسلام قبول کیا، پھر غسل کیا اور مسجد میں داخل ہوا اور شہادت کا اقرار کیا، یہ بات دونوں روایات میں تطبیق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 806]
(ب) صحیح بخاری میں ہے کہ غسل شہادت سے پہلے ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسلام قبول کیا، پھر غسل کیا اور مسجد میں داخل ہوا اور شہادت کا اقرار کیا، یہ بات دونوں روایات میں تطبیق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 806]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 450»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 806 in Urdu