🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1857. -- باب: كراهية من كره القران، والتمتع، والبيان أن جميع ذلك جائز وإن كنا اخترنا الإفراد
-- باب: حجِ قران اور حجِ تمتع کو ناپسند کرنے والوں کی کراہت کا بیان اور اس بات کی وضاحت کہ یہ سب جائز ہے اگرچہ ہم نے حجِ افراد کو ہی اختیار کیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8876
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّبَرَانِيُّ بِهَا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، ثنا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يُفْتِي بِالَّذِي أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي التَّمَتُّعِ، وَسَنَّ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ نَاسٌ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: كَيْفَ تُخَالِفُ أَبَاكَ، وَقَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُ لَهُمْ عَبْدُ اللهِ:" وَيْلَكُمْ أَلَا تَتَّقُونَ اللهَ؟، أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ يَبْتَغِي فِيهِ الْخَيْرَ، وَيَلْتَمِسُ فِيهِ تَمَامَ الْعُمْرَةِ، فَلِمَ تُحَرِّمُونَ وَقَدْ أَحَلَّهُ اللهُ، وَعَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، أَفَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعُوا سُنَّتَهُ أَوْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟، إِنَّ عُمَرَ لَمْ يَقُلْ لَكَ: إِنَّ عُمْرَةً فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ حَرَامٌ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَتَمَّ الْعُمْرَةِ أَنْ تُفْرِدُوهَا مِنْ أَشْهُرِ الْحَجِّ".
سالم فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کو وہ فتویٰ دیتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے تمتع کی رخصت کا دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے، تو لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ اپنے والد کی مخالفت کیسے کرتے ہیں حالاں کہ وہ تو اس سے منع کرتے ہیں؟ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: تمہارا ستیاناس! تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ہو؟ کیا تم سمجھتے نہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا تھا تو بھلائی اور عمرہ کو مکمل کرنے کی غرض سے، اور تم اس کو حرام کیوں قرار دیتے ہو جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال قرار دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کیا ہے، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع زیادہ ضروری ہے یا عمر رضی اللہ عنہ کی؟ عمر رضی اللہ عنہ نے حج کے مہینوں میں عمرہ کو حرام نہیں کہا، بلکہ انھوں نے یہ کہا ہے کہ عمرہ زیادہ بہتر طور سے مکمل اس وقت ہو گا، جب تم اس کو حج کے مہینوں کے علاوہ انجام دو گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8876]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ مسند احمد 2/ 95»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8876 in Urdu